اللہ کی واحدانیت پر پختہ یقین سے خواہشات،چاہتیں اور وساوس کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، امیر عبدالقدیر اعوان

شگاگو: امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ قیام صلوۃ اس کیفیت اور حال میں ادا کی جائے کہ اس میں خشوع و خضوع شامل ہو۔ خشو ع و خضو ع سے ہر رکن کی ادائیگی کرنے سے بندہ مومن کی طرف اللہ کریم متوجہ ہو جاتے ہیں۔اللہ کریم کے متوجہ ہونے سے بندہ حفاظت الٰہی میں آجاتا ہے۔برائی سے بچنا اور نیکی کی طرف چلنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے اسلامک سنٹر شکاگو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کیفیت حاصل نہیں ہو رہی تو نماز کی ادائیگی میں کوئی کمی ہے کہیں غلطی ہو رہی ہے۔یہاں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ میرے اعمال اُمت میں کہیں تفریق تو نہیں پیدا کر رہے؟ اور معاملات کی درستگی نہ ہے تو نماز کو ہم نے محض رواجاً اختیار کیا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب اللہ کی واحدانیت پر پختہ یقین نصیب ہو پھر خواہشات،چاہتیں اور وساوس کی کوئی اہمیت نہیں رہتی بندہ ان کو رد کرتا جاتا ہے کہ کوئی چاہت،کوئی خواہش ایسی نہ ہو جس میں اللہ کریم کی نافرمانی ہو۔ہمارا ظاہر اور باطن ایسا ہو جیسا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اگر ایمان کی یہ بنیاد پختہ ہو جائے تو مخلوق کی محتاجی ختم ہو جاتی ہے بندہ ہر چیز سے آزاد ہو جاتا ہے توکل الی اللہ نصیب ہو جائے تو۔یہ حصہ نصیب ہو جائے تو جب موت کا فرشتہ بھی آئے تو بندہ تیار ہوتا ہے۔اس کیفیت کے لیے اسی زندگی میں عمل کرنا ہے۔ جب تک اس زندگی میں اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ سے زندگی مزین نہیں ہوگی ہم یہ کیفیت حاصل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روز محشر جب مائیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی، اللہ کریم بندہ مومن سے فرماتے ہیں تم نے اس دن بالکل نہیں گھبرانا کیوں کہ تم نے اپنی زندگی میرے توکل پر گزاری مجھ پر بھروسہ کیا۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخرمیں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔


