عشق مصطفیٰ ﷺ بندہ مومن کی اساس ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

سکاربرو: امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ آپ ﷺ کی شان بیان کرنے کے لیے مخلوق کے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جو آپ ﷺ کی شان بیان کر سکیں۔ اللہ کریم نے کلام ذاتی میں حضرت محمد ﷺ کو جو مخاطب فرمایا ہے وہی آیات مبارکہ ہیں جو شان رسالت ﷺ کا حق ادا فرماتی ہیں۔آپ ﷺ کا زمانہ مبارک تمام زمانوں سے افضل ترین ز مانہ ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے سکاربرو کینیڈا میں بعثت رحمت عالم ﷺ کے موضوع پر کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ جلوہ افروز ہیں اور آپ ﷺ کی خدمت عالی میں وہ لو گ جنہوں نے آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کیا اللہ نے انہیں آپ ﷺ کی نسبت سے وہ مقام عطا فرمائے کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، ساری دنیا ایک طرف اور نبی کریم ﷺ کے صحابہ ایک طرف۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جن کی شہادت اور جن کے اوصاف قرآن کریم بیان فرماتا ہے۔وہ لوگ جنہوں نے اپنے رشتے قربان کیے اپنی حیثیتیں قربان کیں،یہاں تک کے اپنی جانیں نچھاور کر دیں لیکن حق کا ساتھ نہیں چھوڑاہر لمحہ آپ ﷺ کی اطاعت میں زندگی بسر کی۔ان کے لیے بھی ارشاد ہے کہ کہیں تمہاری آواز میرے نبی کی آواز سے بلند نہ ہو ورنہ تمہارے سارے اعمال ضائع کر دئیے جائیں گے۔اتنا نازک معاملہ ہے۔آج ماؤشماء کی کیا حیثیت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ سے اظہار محبت میں حدودو قیود سے باہر نکل جائیں۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ ایمان والوں کو ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ سے آگے نہ بڑھو۔امتی کی صبح سے شام تک کی زندگی پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ہدیہ عقیدت کی بات کریں،آپ ﷺ کے فضائل بیان کریں،زندگی کے مختلف پہلوؤں میں راہنمائی کا سبب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کا مبعوث ہونا،کلام ذاتی کالب ہائے مبارک سے نصیب ہونا کتنی بڑی عطا ہے۔ہمارا انداز،ہماری فکر،ہمارے اعلانات ہمارااظہار محبت اور ہمارے اعمال اگر اس بات کی شہادت نہیں دیتے کہ ہم محمد الرسول اللہ ﷺ کے غلام ہیں تو پھر اپنی سمت کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔نہیں تو ایک چڑیا کی اور ہماری زندگی میں کیا فرق ہے ہم اپنے مقصد حیات کو بھول چکے ہیں۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ بصارت کے ساتھ حق نصیب ہوتا ہے تو پھر نور ایمان کے ساتھ قلب کی آنکھ جسے بصیرت کہتے ہیں وہ دیکھتی ہے اُسے وہ کچھ نظر آتا ہے جو ظاہری آنکھ نہیں دیکھ پاتی وہ اپنا اُٹھایا گیا ہر قدم دیکھتا ہے کہ کس جانب ہے اور خود کو روز محشر کھڑا دیکھتا ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے کہا کہ بے شمار تلخیاں ہمارے درمیان آچکی ہیں۔اظہار رائے سب کا حق ہے لیکن کسی کی ذات کو نشانہ نہ بنایا جائے اور اسے تلخی تک نہ لے جایا جائے۔دینی موضوعات میں دل کو وسیع رکھیں۔گزارشات پیش ہونی چاہیے فروعی اختلافات کو بہت شدت کے ساتھ پیش کرنے سے اختلافات بڑھیں گے۔ قوانین اور اسلام پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں ۔

آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد اور اتفاق کے لیے خصوصی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button