جے یو آئی (ف) کی مولانا محمد ادریس کے قتل کے خلاف احتجاجی ریلی، قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

جہلم: جمعیت علماء اسلام (ف) ضلع جہلم کے زیر اہتمام شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس (شہید) کے قتل کے خلاف جہلم پریس کلب کے باہر ایک پُرامن احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں علماء کرام، کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ریلی کچہری چوک سے شروع ہوئی اور مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی جہلم پریس کلب کے باہر اختتام پذیر ہوئی، جہاں شرکاء نے قاتلوں کی فوری گرفتاری، انصاف کی فراہمی اور علمائے کرام کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی ریلی کی قیادت جمعیت علماء اسلام (ف) ضلع جہلم کے ضلعی امیر قاری خالق داد نے کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر قاتلوں کی گرفتاری، امن و امان کے قیام اور علماء کے تحفظ سے متعلق نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے “ظالمو جواب دو، خون کا حساب دو” اور “علمائے کرام کو تحفظ فراہم کرو” کے نعرے بھی بلند کیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قاری خالق داد نے کہا کہ علمائے کرام دین اسلام کی خدمت اور معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان پر حملے پوری قوم کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے قتل میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مقتول کے ورثاء کو انصاف فراہم کیا جائے۔

ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا عمیر حنیف، تحصیل جنرل سیکرٹری مفتی شیر خان اور تحصیل امیر مولانا ابو بکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ علماء کرام، مذہبی شخصیات اور دینی کارکنوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی دینی اور سماجی خدمات انجام دے سکیں۔

مقررین نے خبردار کیا کہ اگر ملزمان کو جلد گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ علماء کرام کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button