سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری پالیسی پر حکومت کو نظر ثانی کرنا چاہئے، ملک محمد مختار

پڑی درویزہ/ سوہاوہ: ملک محمد مختار نے کہا کہ اگرا ساتذہ کرام اپنے بچوں کو پرائیویٹ اداروں سے و ا پس پبلک سیکٹر میں لے آئیں توحکومت کو بھی نجکاری پالیسی پر نظر ثانی کرنا چاہیے ۔

جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے علاقہ پڑی درویزہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے دیرینہ کارکن ملک محمد مختار عرف ڈی سی نے صوبہ پنجاب میں جاری اساتذہ کی کی طرف سے جاری نجکاری پالیسی کے خلاف تحریک کے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر پورے صوبہ پنجاب سے معزز اساتذہ کرام اور دیگر سرکاری ملازمین پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم تمام سطح کے ادا روں سے اپنے بچوں کو واپس سرکاری تعلیمی اداروں میں لے آئیں تو سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری پالیسی پر حکومت کو بھی نظر ثانی کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی اس طرح کی عوام دشمن پالیسیوں سے اجتناب کر نا چاہیے ۔ جیسا کہ نگران حکومت بھی ایک دفعہ کر چکی ہے۔ اساتذہ کرام کو اپنے گھر سے قر با نی کا آغاز کرنا چاہیے ، اس کے علاوہ سرکاری تعلیمی اداروں میں بلاوجہ ہفتہ وار تعطیل کو فوری طور پر ختم کرنا چاہیے کیونکہ ایسے اقدامات سے حکومت کا سیاسی گراف بھی متاثر ہوتا ہے کیونکہ پرائیویٹ اداروں کو مادر پد ر آزاد پالیسی دی گئی ہے یہاں تک کہ مخصوص منصوبہ بندی کے تحت ایسو سی ایٹ کالجز ، حتیٰ کہ جامعات تک کا مقابلہ نجی شعبہ تعلیم کر رہا ہے ۔

ملک محمد مختار نے کہا کہ سرکاری اداروں میں داخلہ تک کم ہو رہا ہے تاہم سرکاری اداروں کا کوئی ثانی نہیں ہو سکتا ہے ۔سرکاری اداروں کے اساتذہ کا ایک معیار تعلیم اور تدریسی تربیت ہوتی ہے جبکہ پرائیویٹ اداروں میں کم تعلیم یافتہ اساتذہ بڑی کلاسز کی تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے دیرینہ کارکن کا کہنا تھا کہ ایک ریاست کو تعلیم ، صحت جیسی بنیادی سہولیات عوام کو بلا امتیاز یکساں انداز میں فراہم کرنافرض اولین ہوتا ہے اس لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی سرکاری شعبہ تعلیم کے تحفظ کے لئے پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے نیز پرائیویٹ اداروں کے لئے بھی خاص پالیسی اپنانے کی از حد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں مادر پدر آزادی دینا قرینہ انصاف نہیں ہے کہ جس علاقہ یا آبادی میں سرکاری تعلیمی ادارہ موجود ہو اس کے گردونواح میں کم از کم 10کلو میٹر تک کوئی نجی پرائیویٹ تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ آج پاکستان میں جو سیاسی فضا موجو دہے اس میں اساتذہ کرام کی تحریک کو اہمیت دینا حکومت کے لئے لازمی ہے اور اپنا سیاسی گراف بھی بہتر کرنے کی از حد ضرورت ہے۔

Exit mobile version