نادرا نے ب فارم سے متعلق اہم وضاحت جاری کر دی

جہلم سمیت ملک بھر میں بچوں کی پیدائش کے فوری بعد رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان، تیز اور جدید بنانے کے لیے نادرا نے نیا برتھ نوٹیفکیشن ٹول متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت بچے کی پیدائش ہوتے ہی والدین کو خودکار ایس ایم ایس موصول ہوگا اور قانونی شناخت کے عمل کا فوری آغاز ہو جائے گا۔
نئے نظام کے تحت کسی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال اور طبی مرکز میں بچے کی پیدائش کے فوراً بعد والدین کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایک اطلاع موصول ہوگی، جس کے ذریعے پیدائش کا ابتدائی ریکارڈ محفوظ کیا جائے گا۔
نادرا ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستان کے شہری اندراج اور شناختی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اسے عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس نئی سہولت سے پیدائش کے اندراج اور بعد ازاں دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے عمل میں درپیش تاخیر کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ بچے کی رجسٹریشن کے لیے پہلا مرحلہ یونین کونسل سے پیدائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا، جو تمام قانونی اور شناختی دستاویزات کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ والدین شناختی کارڈ، ہسپتال کے پیدائشی ریکارڈ یا نادرا کی جانب سے موصول ہونے والے ایس ایم ایس کی مدد سے یہ عمل مکمل کر سکیں گے۔
نادرا نے اس سہولت کو پاک آئیڈینٹیٹی موبائل ایپ کے ذریعے پنجاب اور سندھ میں فعال کر دیا ہے، جبکہ بلوچستان میں اس منصوبے کی توسیع کا عمل جاری ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی متعلقہ منظوریوں کے بعد اس نظام کو نافذ کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام بچوں کی بروقت رجسٹریشن، شناختی نظام کی بہتری اور شہریوں کو سرکاری خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ پیدائش کے اندراج کے عمل کو زیادہ شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔



