وزیروں، مشیروں اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں بے تحاشا اضافہ، جہلم کی عوام کا شدید ردعمل

جہلم کے عوام نے پنجاب حکومت کی جانب سے وزیروں، مشیروں اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں 100 فیصد سے زائد اضافے اور دیگر مراعات میں بے پناہ اضافہ پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

شہری آصف محمود نے پنجاب حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کی بجائے حکومت نے اوگرا کو گیس کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے جبکہ پہلے ہی گیس 24 گھنٹوں میں صرف چار گھنٹے معمولی پریشر کے ساتھ دستیاب ہوتی ہے۔

شہری مبشر حسین نے بتایا کہ شہر کے کارخانے گیس اور بجلی کی قلت کی وجہ سے تقریباً بند پڑے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ حکومت کو عوام کی مشکلات حل کرنے کی فکر ہونی چاہیے تھی لیکن وہ صرف اپنی مراعات بڑھانے میں مصروف ہیں۔

چوہدری دانیال عابد نے کہا کہ "جب دو کروڑ 20 لاکھ بچے مہنگائی کے سبب اسکولوں سے باہر ہوں اور 45 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، تو ایسے حالات میں حکمرانوں کا اپنی تنخواہوں میں 960 فیصد اضافہ کرنا عوام سے بے وفائی کے مترادف ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے حکمران عوام کے لیے مخلص ہوں؟”

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ تنخواہوں اور مراعات میں اضافے سے پہلے عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دینا لازم ہے۔ ساتھ ہی، توانائی بحران اور بے روزگاری جیسے مسائل پر توجہ دے کر صنعتی شعبے کو بحال کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے، تاکہ معیشت کے پہیے کو دوبارہ رواں دواں کیا جا سکے۔

جہلم کے شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی فلاح کے منصوبوں پر توجہ دی جائے، مہنگائی پر قابو پایا جائے، اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اپنی مراعات میں اضافے کے بجائے عوام کی مشکلات کو کم کرنے پر توجہ دے تو یہ ملک و قوم کے لیے زیادہ بہتر ہوگا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button