بھارت کا حملہ یہود و ہنود گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، آپریشن بنیان مرصوص عظیم فوج کا عظیم کارنامہ ہے؛ علماء کرام

جہلم: مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کا ایک خصوصی اجلاس حکیم قاری شبیر احمد عثمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں علماء کرام نے بھارت کی حالیہ جارحیت اور مساجد و مدارس پر حملوں کو یہود و ہنود کے گٹھ جوڑ کی ایک عالمی سازش قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اجلاس میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے اور ملکی دفاع کے لیے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے دوران ضلعی صدر مرکزی علماء کونسل قاری شبیر احمد عثمانی نے کہا کہ بھارتی جارحیت دراصل ایک منظم سازش ہے جس کا مقصد پاکستان کے مذہبی اداروں کو نشانہ بنانا اور ملک میں بدامنی پھیلانا ہے۔ مساجد اور مدارس پر حملے کسی طور پر برداشت نہیں کیے جائیں گے اور یہ عالمی اسلام دشمن قوتوں کا ناپاک ایجنڈا ہے۔

علماء کرام نے اجلاس میں پاکستان کی مسلح افواج، خصوصاً پاک فضائیہ کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص میں شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے "عظیم فوج کا عظیم کارنامہ” قرار دیا۔ انہوں نے آرمی چیف اور پاک فضائیہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر شرکاء نے اسرائیلی جارحیت کو بھی عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام، خصوصاً بچوں اور خواتین تک انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے فوری عملی اقدامات کریں۔

علماء کرام نے ملک میں جاری خوارج کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا اور کہا کہ ریاست کو ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

اجلاس کے اختتام پر تمام شہداء کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور وطن عزیز پر قربان ہونے والے پاک فوج کے بہادر جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اجلاس میں مرکزی علماء کونسل کے عہدیداران اور ممتاز علماء کرام شریک تھے، جن میں جنرل سیکرٹری مولانا انس الرحمٰن، قاری محمد ابراہیم منیر، مولانا ذیشان اسحق، ملک محمد مبارک، قاری عاصم عرفان، مولانا محمد مدثر، مولانا قاری محمد اشرف، عبدالرزاق شمیم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، ملک محمد قاسم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، مفتی زبیرالحسن، قاری محمد ابصار ایوب اور مولانا حافظ مرتضیٰ تنویر شامل تھے۔

Exit mobile version