تھانہ جلالپور شریف پولیس جرائم پر قابو پانے میں ناکام، شہری عدم تحفظ کا شکار

پنڈدادنخان: تھانہ جلالپور شریف کی حدود میں بڑھتی ہوئی چوری، ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو سے اڑھائی ماہ کے دوران جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے تھانہ جلالپور شریف کی حدود میں جرائم کی مختلف وارداتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہریوں کے مطابق متعدد افراد طلائی زیورات، نقدی، موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان سے محروم ہو چکے ہیں، تاہم بیشتر واقعات میں ملزمان تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ شام ڈھلتے ہی جرائم پیشہ عناصر مختلف شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں پر متحرک ہو جاتے ہیں اور شہریوں کو لوٹ کر باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے مؤثر گشت اور بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث جرائم پیشہ افراد کے حوصلے مزید بلند ہو چکے ہیں۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو چکی ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ لوگ گھروں سے نکلتے وقت بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں جبکہ خواتین، بزرگ شہریوں اور طلبہ و طالبات میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہے جبکہ جرائم پیشہ عناصر نے علاقے کو اپنی محفوظ پناہ گاہ بنا لیا ہے۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے بجائے مبینہ طور پر "مک مکا” کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، جس کے باعث وارداتوں میں ملوث عناصر بلاخوف و خطر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم شفیق احمد چوہدری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں، تھانہ جلالپور شریف کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھانہ جلالپور شریف میں فرض شناس، دیانتدار اور متحرک پولیس افسران تعینات کیے جائیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور علاقے میں امن و سکون کی فضا بحال ہو۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں صرف بیانات اور دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ وہ اور ان کے اہل خانہ خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔



