جہلم شہر میں مویشیوں کے باڑے شہریوں کے لیے عذاب بن گئے

جہلم: سال 2025 اختتام پذیر ہو گیا، لیکن جہلم شہر کے گنجان آباد علاقوں میں مویشیوں کی بھرمار ایک سنگین اور دیرینہ مسئلہ کے طور پر برقرار ہے۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور واسا کے ذمہ داران کی پراسرار خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف رہائشی علاقوں میں بااثر افراد نے سرعام بھینسوں اور دیگر مویشیوں کے باڑے قائم کر رکھے ہیں۔ مویشیوں کے چارے، گندگی اور گوبر نے نہ صرف ماحول کو آلودہ کر دیا ہے بلکہ شہر کے سیوریج نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ شہریوں کے مطابق بھینسوں کا گوبر اور فضلہ براہِ راست سیوریج نالوں میں بہایا جاتا ہے، جس کے باعث شہر کے بیشتر گلی محلوں کی نالیاں بند ہو چکی ہیں اور گندا پانی گلیوں اور سڑکوں پر جمع ہو گیا ہے۔

شہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ بارہا شکایات کے باوجود واسا کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس کے باعث تعفن، مچھر اور بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ بچوں، بزرگوں اور مریضوں کے لیے گھروں سے نکلنا دوبھر ہو گیا ہے، جبکہ بارش کے موسم میں صورتحال مزید ابتر ہو جاتی ہے۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ مویشیوں کو شہر سے باہر، ویران اور مختص مقامات پر منتقل کیا جائے تاکہ شہریوں کو اس عذاب سے نجات مل سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے، اور اس کی تمام تر ذمہ داری واسا کے ذمہ داران پر عائد ہوگی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button