پنڈدادنخان کے متعدد دیہات میں لمپی سکن بیماری پھیل گئی، محکمہ لائیو سٹاک کی ٹیمیں متحرک

پنڈدادنخان کے علاقے بگا سیال اور گردونواح میں مویشیوں میں پھیلنے والی لمپی سکن بیماری نے مقامی کسانوں اور مویشی پال حضرات میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ متاثرہ افراد کے مطابق متعدد گائے اور بیل اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث انہیں مالی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان میں متاثرہ جانوروں کے جسم، گردن اور ٹانگوں پر گلٹیاں نمودار ہو رہی ہیں جو بعد ازاں زخموں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ بیماری کے باعث جانوروں کو چلنے پھرنے اور چارہ کھانے میں دشواری پیش آ رہی ہے جبکہ دودھ دینے والے جانوروں کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ نے انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور بعض مقامات پر نجی سطح پر مہنگی ادویات خرید کر علاج کروایا جا رہا ہے۔ مقامی مویشی پال افراد نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور محکمہ لائیو سٹاک کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بیماری کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع اقدامات کیے جائیں اور بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم چلائی جائے۔

دوسری جانب محکمہ لائیو سٹاک نے بیماری کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد فوری طور پر فیلڈ میں کارروائی شروع کر دی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک کی ہدایات پر ماہر ویٹرنری ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر جانوروں کو طبی امداد اور ضروری ادویات فراہم کر رہی ہیں۔

محکمہ لائیو سٹاک کے مطابق بگا سیال اور ملحقہ علاقوں میں موبائل ویٹرنری ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر دورے کر رہی ہیں اور متاثرہ جانوروں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ بیماری کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بروقت علاج اور احتیاطی اقدامات کے باعث متعدد بیمار اور کمزور جانوروں کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔

لائیو سٹاک حکام نے مال مویشی پال حضرات کو ہدایت کی ہے کہ بیمار جانوروں کو صحت مند جانوروں سے الگ رکھا جائے، باڑوں میں مچھر اور مکھی مار ادویات کا اسپرے کیا جائے اور کسی بھی مشتبہ علامت یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری طور پر محکمہ لائیو سٹاک کے عملے سے رابطہ کیا جائے۔

محکمہ لائیو سٹاک کا کہنا ہے کہ بیماری کی روک تھام اور مویشیوں کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں جبکہ صورتحال کی مسلسل نگرانی بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button