سوہاوہ میں سزائے موت پانے والے شخص کو 2 سال بعد بری کر دیا گیا

سوہاوہ: ہائی کورٹ نے سزائے موت پانے والے سوہاوہ کے شہری کو بری کر دیا، راجہ نوازش علی ایڈووکیٹ کے بہترین دلائل کےبعد عدالت نے ملزم ارشدکودوسال بعد بری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سوہاوہ کے نواحی گاؤں دائیوال میں دوگروپوں میں لڑائی ہوئی جس میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا، قتل کامقدمہ 31مارچ 2021کوتھانہ سوہاوہ میں درج ہوا جس کے بعد ملزم محمدارشد دائیوال کو سیشن کورٹ نے قتل کے مقدمے میں ملزم کو سزائے موت دس سال قید اور 20 لاکھ جرمانےکا حکم دیا۔
سزائے موت کے خلاف ملزم نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جس میں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ راجہ نوازش علی نے بہترین دلائل سے اپنے موکل کو بے گناہ ثابت کیا اور ہائی کورٹ کی ججمنٹ کے مطابق ملزم کو اس کیس سے بری کر دیا گیا۔

ایڈووکیٹ راجہ نوازش علی کے مطابق جسٹس صداقت اور جسٹس مرزا وقاص راؤف نے قرار دیا کہ میڈیکل اور گواہان کے بیانات میں تضاد کا فائدہ ملزم کو ہوگا اور ملزم ارشد کو دو سال بعد بری کر دیا گیا جس کے بعد ملزم ارشد کے اہل خانہ نے ایڈووکیٹ راجہ نوازش علی کوکیس میں کامیابی پر مبارکبادپیش کی۔



