ہر بات پر "نہیں” کہنا بچوں کی شخصیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان

معروف ماہر اطفال ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کے دوران ہر بات پر "نہیں”، "مت کرو”، "بند کرو” اور "رک جاؤ” جیسے الفاظ کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے گریز کریں، کیونکہ اس طرزِ عمل کے بچوں کی شخصیت اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان نے کہا کہ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ ایک دن میں ہم اپنے بچوں کو کتنی مرتبہ "نہیں” کہتے ہیں؟ تحقیق کے مطابق اوسط والدین اپنے بچوں کو روزانہ سینکڑوں مرتبہ منفی ہدایات دیتے ہیں جبکہ مثبت جملوں اور حوصلہ افزائی کا تناسب بہت کم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی بچہ مسلسل "نہیں” اور "مت کرو” سنتا رہتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ جو بھی کرتا ہے وہ غلط ہے۔ اس سوچ کے نتیجے میں بچے کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے اور وہ نئی چیزیں سیکھنے یا نئے تجربات کرنے سے گھبرانے لگتا ہے۔

ڈاکٹر عدیل افتخار اعوان کے مطابق مسلسل روک ٹوک کے باعث بچوں میں فیصلہ سازی کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے، بعض اوقات وہ باغیانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور بڑے ہونے پر والدین کی ہر بات کی مخالفت کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے بچے اپنی مشکلات اور احساسات بھی والدین کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کرنے لگتے ہیں۔

انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ صرف "نہیں” کہنے کے بجائے بچوں کو متبادل راستہ دکھایا جائے۔ مثال کے طور پر "ابھی نہیں، بعد میں کریں گے” یا "یہ نہیں، اس کی بجائے یہ کر لو” جیسے مثبت جملے استعمال کیے جائیں تاکہ بچے کو رہنمائی بھی ملے اور اس کی حوصلہ شکنی بھی نہ ہو۔

ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان نے کہا کہ بچوں کی صحت، نشوونما اور تربیت کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تشویش کی صورت میں والدین کو مستند ماہرِ اطفال سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ بروقت اور درست رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ سہ پہر 4 بجے سے شام 7 بجے تک عدیل کلینک نزد مرکزی جامعہ مسجد و میزان بینک مین چوک جی ٹی روڈ دینہ میں بچوں کے معائنے کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔

انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ "بچے صحت مند ہوں گے تو مستقبل محفوظ ہوگا۔”

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button