پنجاب میں گھریلو ملازمین کے لیے ملازمت کا لیٹر لازمی قرار

جہلم: پنجاب حکومت نے گھریلو ملازمین کے تحفظ اور فلاح و بہبود کیلئے نیا لیبر قانون متعارف کرا دیا ہے۔ قانون کے مطابق اب ہر آجر کیلئے لازم ہوگا کہ وہ اپنے گھریلو ملازم کے ساتھ تحریری لیٹر آف ایمپلائمنٹ (Form-A) جاری کرے۔
نئے ضابطے کے تحت گھریلو ملازمین کی ڈیوٹی روزانہ 8 گھنٹے مقرر کی گئی ہے جبکہ اوور ٹائم کی صورت میں ہفتے میں 8 گھنٹے سے زیادہ کام کی اجازت نہیں ہوگی۔ اوور ٹائم کرنے کی صورت میں آجر کو دوگنی اجرت ادا کرنا لازم ہوگا۔
حکومت نے گھریلو ملازمین کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر کر دی ہے۔ آجر پر لازم ہوگا کہ وہ ملازم کو صاف پانی، مناسب کھانا، آرام کی جگہ اور محفوظ ماحول فراہم کرے۔
خواتین گھریلو ملازمین کیلئے میٹرنٹی لیو (زچگی کی چھٹی) کے دوران مکمل تحفظ اور ضروری سہولیات دینے کے احکامات بھی شامل ہیں۔ مزید براں خواتین کیلئے ہلکے کام اور مخصوص تحفظی اقدامات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق آجر کو کسی بھی اضافی کام کے لیے ملازم کی تحریری رضامندی حاصل کرنا ہوگی۔ سالانہ رخصت، صحت کی رپورٹ، زچگی کی اطلاع اور حادثات کی تفصیلات کے لیے مخصوص فارمز (B سے G تک) پر ریکارڈ رکھنا لازم قرار دیا گیا ہے۔
گھریلو ملازمین کیلئے کم از کم 42 اسکوائر فٹ کا کمرہ، مناسب روشنی، ہوا اور پرائیویسی فراہم کرنا بھی قانون کا حصہ ہے۔ اگر کسی ملازم کا ذاتی سامان واپس نہ کیا جائے تو تنازعہ یونین کونسل کی ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
تمام سرکاری فارمز محکمہ لیبر کی ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گے۔ حکومت پنجاب کے مطابق ان نئے قوانین کا مقصد گھریلو ملازمین کو محفوظ، باعزت اور انسانی حقوق کے مطابق کام کا ماحول فراہم کرنا ہے۔



