بری میں چاقو زنی کی وارداتوں کے باعث پاکستانی کمیونٹی کو تشویش
گریٹر مانچسٹر/ بولٹن: بری میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری چاقو زنی کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے کے باعث پاکستانی کمیونٹی میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو ہونے سے کمیونٹی میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے جس کے نتیجے میں پولیس نے علاقے میں گشت بڑھا دی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بار پھر دفعہ 60کا نفاز کر دیا ہے تاکہ مزید کو ئی ناخوش گوار واقعہ پیش آنے کے بجاے اسے روکا جا سکے۔
چاقو زنی کی ایک تازہ ترین واردات کے متعلق بتایا گیا ہے کہ بری سے ملحقہ وائٹ فیلڈ کے علاقے میں مبینہ طور پر ایک نوجوان کو چھرا گھونپنے کے بعد اسے زندگی اور موت کی کشمکش میں چھوڑ کر جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔ یہ حملہ جمعرات کی شب ایک 18 سالہ نوجوان پر اس وقت کیا گیا جب وہ نوجوان وائٹ فیلڈ کے قریب بری کے علاقے کے ابگنڈن ایونیو پر واقع ایک پرائمری اسکول سے محضگز کے فاصلے پر تھا جہاں اسے چاقو مارا گیا۔
گریٹر مانچسٹر پولیس نے چاقو زنی کی اس واردات کو تازہ ترین بتایا ہے جس سے کمیونٹی میں انتہائی تشویش پائی جا رہی ہے چاقو کا وار نوجوان کے بازو پر لگا جس سے گہرا زخم ہو گیا خون بہنے سے فوری طور پر ائیر ایمبولینس طلب کی گئی جس کو اسکول کے میدان میں اترا گیا اور فوری طور پر اسے اسپتال لے جایا گیا۔
گریٹر مانچسٹر پولیس نے جمعرات کی شام ہونے والے اس حملہ کو ٹارگٹ کلنگ اور ʼجان لیواʼ قرار دیا۔ اس سلسلے میں ایک 49سالہ اور ایک 18سالہ شخص کو قتل کے شبہ میں گرفتار کیا گیاہے جس سے پولیس پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
پولیس کے خفیہ سراغ رساں ادارے بھی اس واردات کو ʼٹارگٹ کلنگ حملہ سمجھتے ہیں اور دفعہ 60کے نفاز سے پولیس کو مذید اختیارات حاصل ہو گئے ہیں تاکہ وہ سٹاپ اور سرچ پالیسی کو جاری رکھ کر کمیونٹی میں امن و امان کی فضا برقرار رکھ سکے۔
یاد رہے کہ دو ہفتے قبل برطانوی وزیر داخلہ جمیز کلیورلی نے چاقو زنی کی وارداتوں کے حوالے سے حالات اور پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کہلیے از خود بری کا دورہ کیا تھا اور گریٹر مانچسٹر پولیس کو اس سلسلے میں فنڈنگ دینے کا عندیہ بھی دیا تھا۔


