ٹریبونل نہ ہٹائے گئے تو حکومت الٹ جائےگئی، فواد چودھری

سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن ٹریبونل برقرار رہا تو مسلم لیگ( ن)کی حکومت 45 دنوں میں ختم ہو جائے گی۔
یہ بڑا دعویٰ انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ فواد چودھری نے کہا کہ نوازشریف اور مریم نواز بھی اپنی سیٹیں کھودیں گے۔مسلم لیگ (ن) کی ساری گھبراہٹ ہی فارم 45 اور فارم 47کا ایک جیسا نہ ہونا ہے۔
پروگرام کے دوران ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے ایڈہاک ججوں کے معاملے پر فواد چودھری نے کہا کہ ماحول اس طرح کا بن چکا ہے کہ کوئی بھی یہ رسک لینے کو تیار ہی نہیں ہے۔ عوام کا مینڈیٹ اس قدر خلاف ہے کہ یہ پراسس چل ہی نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں مجھے لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس میں تاخیر کرے گا۔ مجھے لگ رہا ہے کہ سپریم کورٹ جو تفصیلی فیصلہ لا رہی ہے، اس میں سارا الیکشن کمیشن چارج شیٹ ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بہت جلد ہی سب کو یہ نظر آئے گا کہ چیف الیکشن کمشنر اور باقی ممبران انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے انکوائریاں بھگت رہے ہوں گے۔
پروگرام” برعکس” میں ان کاکہنا تھا کہ حکومت یہ ساری تگ ودو صرف اور صرف خود کو اور الیکشن کمیشن کو بچانے کیلئے کر رہی ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو تین سال کی ایکسٹینشن دلوا دی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو عدالتی امور کا نظام گر جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ نے سارے کا سار ابوجھ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں شہباز شریف کے نازک کندھوں پر رکھا ہوا ہے۔ لیکن اب کے کندھے یہ بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہیں۔
فواد چودھری نے کہا کہ ا ب تیسری لڑائی عدلیہ کیساتھ شرو ع کر دی گئی ہے۔ لیکن موجودہ ججز بڑے تگڑے ہیں۔ جنھیں نہ تو نوکری کی فکر ہے اور نہ ہی پیسے کی۔ یہ ججز کرپٹ نہیں ہیں۔



