جہلم میں گندم سیزن اختتام کے قریب، کسان حکومتی بے حسی پر سراپا احتجاج

جہلم: ملک بھر کی طرح ضلع جہلم میں بھی گندم کا سیزن اب اختتام کے قریب ہے، تاہم کسانوں کو حکومت کی جانب سے تاحال کسی قسم کا خاطر خواہ ریلیف یا معاونت فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث کسان شدید مالی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔
مارکیٹ میں گندم کی قیمت 2200 سے 2250 روپے فی من کے درمیان برقرار ہے، جو کہ موجودہ پیداواری لاگت کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔
کسانوں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ حکومت نے سیزن کے آغاز پر گندم کی سرکاری قیمت اور امدادی پیکج کا اعلان تو ضرور کیا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ نہ تو سرکاری نرخوں پر مؤثر خریداری کا بندوبست کیا گیا اور نہ ہی کسانوں کو کسی قسم کا عملی ریلیف ملا۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں کھاد، بیج، زرعی ادویات اور مزدوری کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کا گندم کاشت کرنا گھاٹے کا سودا بنتا جا رہا ہے۔
زرعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ ملا تو آئندہ سیزن میں پنجاب کے کاشتکار گندم کی بجائی سے اجتناب کر سکتے ہیں، جو کہ ملکی سطح پر غذائی تحفظ کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
عوامی و زرعی حلقوں نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گندم کی قیمت پیداواری لاگت کے مطابق مقرر کی جائے، اور کسانوں کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں تاکہ وہ آئندہ فصل کی تیاری بہتر طریقے سے کر سکیں۔



