آئندہ بجٹ میں اسٹیشنری اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز، طلبہ اور والدین میں تشویش

جہلم: آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں تعلیمی اور اسٹیشنری اشیاء پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز زیر غور ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت ریونیو میں اضافے کے مختلف اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں کتابوں، کاپیوں، پنسلوں اور دیگر اسٹیشنری سامان پر عائد سیلز ٹیکس کو موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ تجویز منظور کر لی گئی تو تعلیمی سامان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کا براہِ راست اثر طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کے اخراجات پر پڑے گا۔ تعلیمی سال کے آغاز اور روزمرہ تعلیمی ضروریات کے پیش نظر یہ اضافہ لاکھوں خاندانوں کے لیے اضافی مالی بوجھ کا باعث بن سکتا ہے۔

تعلیمی حلقوں، اساتذہ اور والدین نے مجوزہ فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث تعلیمی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کتابوں اور دیگر ضروری تعلیمی سامان پر مزید ٹیکس عائد کرنا متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کرے گا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے حکومت کو تعلیمی شعبے سے وابستہ اشیاء پر ٹیکس بڑھانے کے بجائے طلبہ اور والدین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔

تاہم ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور مجوزہ اقدامات کی منظوری یا ردِعمل کا واضح تعین وفاقی بجٹ پیش ہونے اور پارلیمانی منظوری کے بعد سامنے آئے گا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button