جہلم میں کرکٹ اور فٹبال میچوں پر مبینہ آن لائن جوئے میں اضافہ

جہلم شہر میں کرکٹ اور فٹبال میچوں پر مبینہ ڈیجیٹل قمار بازی میں تشویشناک اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس پر شہریوں اور سماجی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جہلم شہر کے نیا محلہ، شمالی محلہ، مشین محلہ، محمدی چوک، اسلامیہ اسکول، بلال ٹاؤن، ٹاہلیانوالہ، روہتاس روڈ اور دیگر علاقوں میں مبینہ طور پر آن لائن سٹے کا غیر قانونی کاروبار جاری ہے، جہاں مختلف قومی اور بین الاقوامی کرکٹ اور فٹبال مقابلوں پر روزانہ لاکھوں روپے کی شرطیں لگائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پرتگال کے ایک فٹبال میچ پر بھی مبینہ طور پر بڑی مالیت کا سٹہ کھیلا گیا۔ میچ برابر ہونے کے باعث متعدد افراد کو مالی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ مبینہ طور پر اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث عناصر نے بھاری رقوم حاصل کیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ قمار بازی جیسی سماجی برائی نوجوان نسل کو معاشی اور سماجی مسائل کی جانب دھکیل رہی ہے۔ ان کے مطابق بعض خاندان مبینہ طور پر قرضوں اور مالی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں، تاہم اس غیر قانونی سرگرمی کے خلاف مؤثر کارروائیاں نظر نہیں آ رہیں۔
اہلِ علاقہ نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں مبینہ آن لائن قمار بازی کے نیٹ ورک کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں، قانون کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور نوجوان نسل کو اس سماجی برائی سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ دعوے مقامی ذرائع اور عوامی شکایات پر مبنی ہیں۔ متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔



