سعودی عرب میں قتل اور ہیروئن سمگلنگ پر 2 پاکستانیوں کو سزائے موت

مکہ مکرمہ: سعودی عرب میں قتل اور ہیروئن سمگلنگ کے الگ الگ جرم پر 2 پاکستانیوں کو سزائے موت دے دی گئی۔
المرصد اخبار کے مطابق ایک پاکستانی شہری علی اکبر نور احمد نے ان کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے سعود بن علی بن بخیت الشیبانی کو سر پر تیز دھار چیز ماری اور پھر گاڑی اس کے اوپر چڑھا دی جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔
واقعے کے بعد سکیورٹی حکام مذکورہ شخص کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس کی تفتیش کے نتیجے میں اس پر جرم کے ارتکاب کا الزام ثابت ہوا اور اسے مجاز عدالت میں بھیج دیا۔
عدالت کی جانب سے حکم جاری کیا گیا کہ ملزم کی طرف منسوب جرم ثابت ہونے کے باعث انتقام کے طور پر اس کو بھی قتل کر دیا جائے، پاکستانی شہری نے فیصلے کے خلاف اپیل کی تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے بھی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا، اس پر عمل درآمد کے لیے ایک شاہی حکم جاری ہوا جس کے بعد مجرم علی اکبر نور احمد کو منگل کے روز مکہ المکرمہ کے علاقے میں شریعت کے مطابق سنائے جانے والے فیصلے کے تحت سزائے موت دے دی گئی۔
بتایا جارہا ہے کہ سعودی عرب میں حکام نے ہیروئن سمگل کرنے پر بھی ایک پاکستانی کو سزائے موت دی ہے، اس حوالے سے ایک بیان میں سعودی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ایک تارک وطن عبد القیوم شنواری کو ہیروئن سمگل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا گیا، جس کے بعد اس کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں الزام ثابت ہوا اور فساد فی الرض پھیلانے کے باعث عدالت نے اسے سر قلم کرنے کی سزا سنائی۔
بعد ازاں اپیل کورٹ نے زریں عدالت کی فیصلے کی تصدیق کی اور ایوان شاہی نے فیصلے پر عملدرآمد کی منظوری دی، جس کے بعد فیصلے عملدرآمد کرتے ہوئے مذکورہ شخص پر مکہ مکرمہ میں سزا نافذ کردی گئی۔


