ریکارڈ بارشوں اور سیلاب کے باوجود ماہرین کا چند ماہ بعد پانی کی شدید کمی کا انتباہ

جہلم/ منگلا: ریکارڈ بارشوں اور دریاؤں میں سیلاب کے باوجود، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں پانی کی شدید کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ دریائے جہلم میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
موقر انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملک کے 2 بڑے ذخائر میں سے ایک منگلا ڈیم میں پانی کی آمد سست روی کا شکار ہے۔
ہفتے کے روز دریائے جہلم میں پانی کی آمد 25 ہزار 200 کیوسک تھی، جو معمول کے بہاؤ سے 47 فیصد کم ہے، گزشتہ سال اسی دن یہ بہاؤ 39 ہزار 700 کیوسک تھا۔
گزشتہ 5 سال کا اوسط بہاؤ 47 ہزار 900 کیوسک جب کہ 10 سال کا اوسط 44 ہزار 200 کیوسک تھا۔
کم پانی کی آمد کی وجہ سے منگلا ڈیم میں پانی روزانہ صرف چند انچ ہی بڑھ رہا ہے، ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں آئندہ ربیع کے موسم میں 25 فیصد پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
جمعرات سے جمعہ کے دوران، منگلا ڈیم کی سطح صرف 1200 فٹ سے بڑھ کر 1201 اعشاریہ 20 فٹ تک پہنچی، جو اس کی 1242 فٹ کی مکمل گنجائش سے 41 فٹ کم ہے۔
اس وقت ڈیم میں 4 اعشاریہ 3 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) پانی موجود ہے، جب کہ اس کی کل گنجائش 7 اعشاریہ 3 ملین ایکڑ فٹ ہے۔
یہ 3 ایم اے ایف پانی کی کمی آئندہ ربیع کے موسم میں 12 سے 15 فیصد پانی کی قلت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
دریائے جہلم نے گزشتہ 4 ماہ میں مجموعی طور پر 8 اعشاریہ 7 ایم اے ایف پانی فراہم کیا، جو گزشتہ سال سے 27 فیصد اور 10 سالہ اوسط سے 28 فیصد کم ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی کے اوائل سے جاری کشیدگی نے بھی منگلا ڈیم میں پانی کی آمد کو متاثر کیا ہے۔
بھارت نے اپریل میں یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے دریاؤں کے پانی کی معلومات کی فراہمی بند کر دی تھی۔
ارسا کے ترجمان خالد ادریس رانا کے مطابق، بھارت کے فیصلے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے منگلا ڈیم سے تقریباً 5 لاکھ ایکڑ فٹ پانی خارج کرنا پڑا۔
خالد ادریس رانا کے مطابق، اتار چڑھاؤ کو متوازن رکھنے اور فصلوں کی آبپاشی کو یقینی بنانے کے لیے منگلا ڈیم سے اضافی پانی چھوڑا گیا، جس کے باعث ڈیم میں پانی کی آمد سست روی کا شکار ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر ہمیں مون سون کے دوران 2 سے 3 تاخیری بارشیں ملتی ہیں، جو منگلا ڈیم کو بھرنے میں مدد دیتی ہیں، لیکن اس سال ایسی بارش نہیں ہوئی اور مستقبل قریب میں بھی اس کی پیشگوئی نہیں ہے۔



