پنڈدادنخان میں شہریوں کو ہراساں کرنے والے 6 ملزمان اسلحے سمیت گرفتار، ویگو ڈالہ قبضے میں لے لیا گیا

جہلم: پنڈدادنخان پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو ہراساں کرنے والے 6 ملزمان کو اسلحے سمیت گرفتار کر کے ویگو ڈالے کو قبضے میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈی پی او جہلم شفیق احمد چوہدری کی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر اور قانون شکن افراد کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران تھانہ پنڈدادنخان پولیس نے اہم کارروائی کرتے ہوئے ناجائز اسلحے کے زور پر شہریوں کو ہراساں کرنے، لڑائی جھگڑا کرنے اور دھمکیاں دے کر علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

ترجمان جہلم پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے دو پستول 30 بور، دو رائفلیں کلاشنکوف معہ میگزینز اور ایمونیشن برآمد کیا گیا۔ پولیس کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ویگو ڈالے سے مجموعی طور پر 16 میگزین بھی برآمد ہوئے۔ گاڑی پر مبینہ طور پر سرکاری سائرن اور پولیس گاڑیوں میں استعمال ہونے والے اشارے بھی نصب کیے گئے تھے۔

پولیس کے مطابق واقعے کا پس منظر نئی تعمیر ہونے والی سڑک سے پتھروں سے لدے ڈمپرز کی آمدورفت بتایا جاتا ہے۔ علاقہ مکینوں نے مبینہ طور پر سڑک کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے پیشِ نظر ڈمپر ڈرائیوروں کو اس راستے سے گزرنے سے منع کیا تھا، جس کے بعد ملزمان مبینہ طور پر مسلح ہو کر ہیوی گاڑیوں کو اپنی نگرانی میں نئی سڑک سے گزارنے لگے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے اس دوران علاقہ مکینوں کو دھمکیاں دیں اور ناجائز اسلحے کی نمائش کے ذریعے خوف و ہراس پھیلایا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ پنڈ دادن خان پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چھ ملزمان کو گرفتار کیا اور اسلحہ سمیت ویگو ڈالہ قبضے میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔

پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ واقعے میں سرکاری سائرن اور پولیس گاڑیوں کے اشاروں کے مبینہ استعمال سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ بھی قانونی کارروائی کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔

اس موقع پر ڈی پی او جہلم شفیق احمد چوہدری نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ جہلم پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ ناجائز اسلحے کے ذریعے شہریوں کو ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ڈی پی او جہلم نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button