ضلع جہلم میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے ہی مہنگائی کا طوفان برپا ہوگیا

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے ہی مہنگائی کا طوفاں برپا ہوگیا، دکانداروں نے گھی،چینی، دالیں، میدہ اور آٹے سمیت تمام اشیا خورونوش کی قیمتوں میں ایک بار پھر سے خود ساختہ اضافہ کر دیا، صارفین حکمرانوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جیسے ہی پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں وزیر خزانہ نے اضافہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی شہر سمیت ضلع بھر میں منافع خورمافیا نے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالناشروع کررکھا ہے ، دیہی علاقوں میں غریبوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو بوجہ بیروز گار ی ایک وقت کی روٹی بھی اپنے بچوں کو مہیا کرنے سے قاصر ہے۔

شہری حلقوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکمران غریب افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرکے برسرِ اقتدار آئے وزیراعظم کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے وطن عزیز اربوں روپے کے قرضوں تلے دب گیاہے ، جو ملکی معیشت پروان چڑھانے کی باتیں کرتے تھے ، پٹرول و بجلی سستی کرنے کے دعوے کرنے والے حکمران عوام کو مہنگی بجلی و پٹرول فروخت کرکے آئی ایم ایف اور اشرفیہ کو خوش کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ان کی اپنی افسر شاہی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان کی غریب عوام پر پٹرولیم بم پھینک دیا گیا ، اب بجلی مزید مہنگی کرکے صارفین سے جینے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے، یوں لگتا ہے کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے جو قرضے لئے تھے وہ سود سمیت پاکستانی سے لیکر واپس لوٹانے ہیں جو غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ہر روز منی بجٹ پیش کرکے شہریوں کی چمڑیاں ادھیڑی جارہی ہیں۔

شہریوں نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ خدا را عوام پر ترس کھائیں اپنی عیاشیوں کے لیے ، لیے گئے پیسوں کے قرضے پاکستانی عوام سے پورا نہ کیا جائے اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لئے ضلعی انتظامیہ کو متحرک کیا جائے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نرخوں کی جانچ پڑتال کر کے مہنگائی کے سیلاب کے سامنے پل باندھ سکیں۔

Exit mobile version