یکم جولائی سے گھر کی خرید و فروخت پر کتنا ٹیکس دینا پڑے گا؟

جہلم: وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس بل 2026-27 کے تحت مختلف شعبوں پر نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جن کے تحت یکم جولائی سے جائیداد کی خرید و فروخت، کارپوریٹ سیکٹر، بینکنگ کمپنیوں اور سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر نئی ٹیکس شرائط نافذ ہوں گی۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے غیر منقولہ جائیداد (پراپرٹی) کے لین دین سے متعلق نئی شرائط کی منظوری دے دی ہے۔ نئے قانون کے تحت یکم جولائی سے جائیداد فروخت کرنے والے افراد سے فروختی رقم پر 2اعشاریہ75 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا، جبکہ جائیداد خریدنے والے شخص پر پراپرٹی کی فیئر مارکیٹ ویلیو کے مطابق 1اعشاریہ25 فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ان نئے ٹیکس اقدامات کے نتیجے میں پراپرٹی سیکٹر میں لین دین کی لاگت میں اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث خریداروں اور فروخت کنندگان دونوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
فنانس بل کے مطابق کارپوریٹ سیکٹر اور بینکنگ کمپنیوں پر بھی ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا گیا ہے۔ یکم جولائی سے بینکنگ کمپنیوں اور فرٹیلائزر (کھاد) سیکٹر کی 15 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد کی شرح سے ٹیکس لاگو ہوگا، جبکہ دیگر تمام کارپوریٹ کمپنیوں کی 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 8 فیصد اضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور آن لائن آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بھی اہم اقدامات کیے ہیں۔ فنانس بل میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 151-B کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس نئے اقدام کے تحت یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والے مقامی کانٹینٹ کریئیٹرز، وی لاگرز، انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل مارکیٹرز کی آمدن پر 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور حکومتی محصولات میں اضافہ کرنا ہے، تاہم مختلف کاروباری حلقوں اور پراپرٹی سیکٹر سے وابستہ افراد نے ان نئے ٹیکس اقدامات کے ممکنہ معاشی اثرات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔
واضح رہے کہ فنانس بل میں شامل یہ اقدامات یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گے، جن کے تحت مختلف شعبوں میں ٹیکس وصولی کے نئے قواعد کا اطلاق کیا جائے گا۔



