جہلم کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 24 میں کانٹے کا مقابلہ متوقع؟

ضلع جہلم کی سیاست میں ہمیشہ تحصیل سوہاوہ بالخصوص تحصیل دینہ کا بڑا کلیدی کردار رہا ہے جس کا حلقہ پی پی 24 جہلم ون ہے۔
عام انتخابات 2024 میں تمام سیاسی جماعتوں نے اس حلقے میں اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں جن میں تحریک لبیک پاکستان کے سید عرفان امیر شاہ بخاری، پاکستان استحکام پارٹی کے راجہ یاور کمال، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر قاسم محمود چوہدری، پاکستان پیپلز پارٹی کے مرزا عبدالغفار خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید رفعت زیدی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدوار شامل ہیں۔
اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پاکستان استحکام پارٹی کے امیدوار پی ٹی آئی چھوڑنے والے سابق ایم پی اے راجہ یاور کمال کے بدلے اپنے امیدوار مہر محمد فیاض جو پہلے دو دفعہ ایم پی اے رہ چکے ہیں اور راجہ اویس خالد ایک دفعہ ایم پی اے رہ چکے ہیں کو ٹکٹ نہیں دیا۔
اس پر مقامی مسلم لیگی کارکنوں کے شدید ردعمل کے نتیجے میں مہر محمد فیاض کے حمایت یافتہ راجہ اویس خالد نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔ مہر محمد فیاض اور ان کے ہم خیال مسلم لیگی دھڑوں نے راجہ اویس خالد کی بھرپور کمپین چلائی لیکن چند دن قبل راجہ اویس خالد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی جس کے بعد راجہ اویس خالد نے الیکشن لڑنے سے دستبردار ہو گئے ۔
اس کا مجموعی طور پر سیاسی فائدہ تحریک لبیک پاکستان کو ملا، اس وقت اگر دیکھا جائے تو راجہ یاور کمال اور سید عرفان امیر شاہ کے درمیان کاٹنے دار مقابلہ متوقع ہے لیکن دوسری طرف اچھی شہرت کے مالک اور سرگرم سیاسی و سماجی شخصیت جماعت اسلامی کے امیدوار ڈاکٹر قاسم محمود چوہدری بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور نوجوان ووٹرز سید رفعت زیدی کو بھرپور سپورٹ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ تنظیم مغلیہ جہلم کے راہنما پیپلز پارٹی کے امیدوار مرزا عبدالغفار بھی کافی پر امید نظر آرہے ہیں ۔
یہاں ایک بات ضرور قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا کہ عوام زیادہ تر اس الیکشن سے لا تعلق اور مایوس نظر آتی ہے، خصوصاً نوجوان ووٹرز خاموش لگتے ہیں، کہیں یہ خاموشی الیکشن نتائج بدلنے کا پیش خیمہ ثابت نہ ہو ۔



