جہلم کے پٹرول پمپس پر ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ کے انکشافات، شہریوں کا شدید احتجاج

جہلم: ضلع جہلم کے اکثریتی پٹرول پمپس پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں پٹرول ڈالتے وقت مقدار میں کمی کی شکایات عام ہو چکی ہیں جبکہ بعض پٹرول پمپس پر ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری پٹرول فروخت کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

شہریوں کے مطابق پٹرول پمپس کی مشینوں کی اسٹینڈرڈ سیٹنگ میں رد و بدل کر کے صارفین کو کھلے عام لوٹا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع بھر کے بیشتر پٹرول پمپس کی مشینوں میں ایسی تبدیلی کی گئی ہے کہ مشین کی اسکرین پر ظاہر ہونے والی رقم اور پٹرول کی مقدار درحقیقت گاڑی یا موٹر سائیکل میں ڈالی ہی نہیں جاتی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ چند پٹرول پمپس پر ڈیزل کی پیمائش والی مشینوں میں بھی رد و بدل کی شکایات سامنے آئی ہیں، تاہم زیادہ تر شکایات پٹرول کی مشینوں سے متعلق ہیں، جہاں مبینہ طور پر ہیرا پھیری کے ذریعے پٹرول پمپ مالکان دگنا منافع کما رہے ہیں اور شہریوں کا شدید مالی استحصال کیا جا رہا ہے۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دور دراز علاقوں میں قائم پٹرول پمپس کی مشینوں کی جانچ پڑتال کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ سال بھر میں بمشکل ایک یا دو مرتبہ چند پٹرول پمپس کو چیک کیا جاتا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پٹرول پمپ مالکان بے خوف ہو کر شہریوں کو چونا لگا رہے ہیں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام پٹرول پمپس پر مینول پیمائش کے پیمانے رکھے جائیں تاکہ کسی بھی شک کی صورت میں خریدار ان پیمانوں کے ذریعے آئل ڈیلوری کی جانچ کر سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف صارفین کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ آئل کی فراہمی میں جعلسازی اور دھوکہ دہی کرنے والے پٹرول پمپس بھی بے نقاب ہوں گے۔

عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول پمپس پر آئل کی فراہمی کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور پٹرول پمپ مالکان کو ایک سے پانچ لیٹر تک کے مینول پیمانے رکھنے کا پابند بنایا جائے تاکہ شہریوں کے جاری استحصال کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button