جہلم میں مہنگائی کے ریلے نے شہریوں کی چیخیں نکال دیں، انتظامیہ خاموش تماشائی

جہلم: ضلع جہلم میں حالیہ دنوں میں مہنگائی نے شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اگرچہ شہر اور ضلع بھر میں سیلاب کا کوئی اثر نہیں ہوا، لیکن اشیاء خوردنوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کے لیے شدید پریشانی کا سبب بن گیا ہے۔
چند روز قبل شہر میں 100 روپے فی کلو فروخت ہونے والے ٹماٹر کی قیمت مہنگائی کے اثرات کے بعد اچانک 300 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ہری مرچ جو 50 روپے فی کلو میں دستیاب تھی اب 250 روپے فی کلو میں فروخت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح 60 روپے کلو کے حساب سے فروخت ہونے والا پیاز اب 120 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔
گندم کی قیمت بھی 2,300 روپے من سے بڑھ کر ساڑھے چار ہزار روپے من ہو گئی ہے اور آٹے کا دس کلو کا تھیلہ 1,200 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ مقامی قصابوں نے سرکاری نرخنامے کو نظرانداز کرتے ہوئے بکرے کا گوشت 2,000 سے 2,200 روپے اور گائے کا گوشت 1,000 سے 1,200 روپے فی کلو کے حساب سے بیچنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ سبزیوں، پھلوں اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی اس لہر سے غریب اور سفید پوش طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہری توقع کر رہے ہیں کہ انتظامیہ اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔



