قتل کیس کا فیصلہ، جرم ثابت ہونے پر عدالت نے مجرم کو سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنا دی

سوہاوہ: قتل کیس میں عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے مجرم زاہد حسین کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ مقدمہ تھانہ سوہاوہ میں سال 2014 میں درج کیا گیا تھا۔

ترجمان جہلم پولیس کے مطابق مقدمہ نمبر 52/14 بجرم 302/109 کے تحت مجرم زاہد حسین پر سال 2014 میں قتل کے جرم کا ارتکاب کرنے کا الزام تھا۔ مقدمہ کی تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد معزز عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم جاری کیا۔

پولیس حکام کے مطابق جہلم پولیس نے جدید تفتیشی طریقہ کار اور مسلسل کوششوں کے ذریعے مجرم کو ٹریس کرکے گرفتار کیا۔ بعد ازاں ملزم کے خلاف مضبوط اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چالان عدالت پیش کیا گیا جبکہ مقدمہ کی مؤثر انداز میں پیروی بھی کی گئی۔

ترجمان نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور قانونی نکات کی روشنی میں معزز عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ملزم جرم کا مرتکب ثابت ہوا ہے، جس پر اسے قرار واقعی سزا سنائی گئی۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم شفیق احمد چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور جرائم پیشہ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا جہلم پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

ڈی پی او جہلم نے مزید کہا کہ عدالتوں میں مقدمات کی مؤثر پیروی اور ٹھوس شواہد کی فراہمی کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے پولیس اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button