جہلم شہر میں خستہ حال عمارتیں خطرے کی علامت، رہائشیوں کی زندگیاں داؤ پر

جہلم شہر اور ملحقہ علاقوں میں خستہ حال اور پرانی عمارتیں شہریوں کے لیے جان لیوا خطرہ بن چکی ہیں۔
حالیہ مون سون بارشوں کے بعد ان عمارتوں کے منہدم ہونے کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، تاہم متعلقہ محکمے اب تک مؤثر اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں، جس پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
شہریوں کے مطابق مغلیہ دور کے بعد سکھ دور میں جہلم شہر کے مختلف علاقوں جن میں باغ محلہ، مشین محلہ، شمالی محلہ، میدان پاکستان، کالا گجراں، سنگھوئی اور چوٹالہ شامل ہیں، میں تعمیر کی گئی کئی عمارتیں آج بھی اپنی خستہ حالی کے باوجود زیر استعمال ہیں۔
ان عمارتوں کو وقتاً فوقتاً خالی کروایا گیا، لیکن کچھ افراد نے ان عمارتوں کو مالی منافع کا ذریعہ بناتے ہوئے ان کی مرمت یا نئی تعمیر کی بجائے انہیں رہائش گاہوں اور کاروباری مراکز کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق ان عمارتوں کی حالت اب اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ وہ کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی ہیں، جس سے ان میں مقیم کرایہ داروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ سرکاری ادارے خطرے کا ادراک ہونے کے باوجود تاحال کوئی مؤثر کارروائی کرنے کو تیار نہیں، جو ایک افسوسناک اور خطرناک صورتِ حال کو جنم دے رہی ہے۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ خستہ حال عمارتوں کا فوری نوٹس لیا جائے، ان عمارتوں کو خالی کروا کر از سرِ نو تعمیر کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ کسی بڑے سانحے سے بچا جا سکے۔



