بجلی کی 11 ہزار وولٹ تاروں سے ٹکرا کر 27 سالہ نوجوان کا ہاتھ ضائع، غریب خاندان مالی مشکلات کا شکار

سوہاوہ کے محلہ شیخاں ریلوے پٹری کے قریب بجلی کی ہائی وولٹیج تاروں سے پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں 27 سالہ نوجوان ذیشان ولد جہانگیر شدید زخمی ہو گیا، جس کے نتیجے میں اسے اپنا ایک ہاتھ ضائع ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے کے بعد نوجوان کا غریب خاندان شدید پریشانی اور مالی مشکلات سے دوچار ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق ذیشان اپنے گھر کے اوپر سے گزرنے والی 11 ہزار وولٹ کی بجلی کی تاروں سے ٹکرا کر شدید زخمی ہوا۔ نوجوان کو علاج کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں وہ تقریباً 20 روز تک زیرِ علاج رہا۔ تاہم زخموں کی شدت کے باعث بالآخر اس کا ہاتھ کاٹنا پڑا۔

ذیشان کے والد جہانگیر انتہائی غریب ہیں اور جوان بیٹے کی معذوری کے باعث سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے گھر کے اوپر سے گزرنے والی خطرناک بجلی کی تاریں ہٹوانے کے لیے متعدد درخواستیں دیں، لیکن تاحال ان کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق تاریں ہٹانے کے لیے مختلف افراد کی جانب سے لاکھوں روپے کے اخراجات بتائے گئے، جو ان کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں۔

علاقہ مکینوں نے متعلقہ ایس ڈی او واپڈا اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سوہاوہ کی گلیوں اور محلوں میں ڈھیلی، نیچی اور خطرناک بجلی کی تاروں کا فوری معائنہ کرکے انہیں محفوظ بنایا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔

شہریوں نے حکام سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ متاثرہ نوجوان ذیشان کے علاج معالجے، مالی معاونت اور روزگار کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، تاکہ وہ اپنی معذوری کے باوجود باعزت زندگی گزار سکے اور اس کے خاندان کی مشکلات کم ہو سکیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک خاندان کی پریشانی تک محدود نہیں بلکہ عوامی تحفظ کا بھی اہم مسئلہ ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ متاثرہ خاندان کی داد رسی کریں اور خطرناک بجلی کی تاروں کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں۔

مالی معاونت کے لیے رابطہ:

ذیشان کے والد جہانگیر
موبائل نمبر: 03348602697

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button