نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو موثر طریقے سے پیش کیا جائے، ڈاکٹر پیر ساجد الرحمٰن

گریٹر مانچسٹر /بولٹن: برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے آستانہ عالیہ بھگار شریف کے سجادہ نشین پروفیسر ڈاکٹر ساجد الرحمٰن نے کہا ہے کہ آج افراتفری اور نفسانفسی کے اس دور میں قرآن پاک ہی دنیا میں گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ایک قندیل اور روشن چراغ ہے جو دنیا کو اندھیروں سے نکال سکتا ہے۔ قرآن پاک انسان کے زندگی کے ہر شعبہ میں رہنما کتاب ہے جس کی برکات اور عظمت کو غیر مسلموں نے بھی تسلیم کیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہارونیہ اسلامک سنٹر راچڈیل میں مشائخ بھگار شریف کے سالانہ عرس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے چورہ شریف کے صاحبزادہ سید نعمان حیدر علی شاہ گیلانی، مفتی قاری عبدالرحیم نقشبندی، مولانا ظفر مجددی فراشوی، علامہ عمر حیات قادری، مفتی امجد علی، مولانا صدیق کوثر، مولانا مجیب قریشی، قاری محمد اسماعیل نے بھی خطاب کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر پیر ساجد الرحمٰن نے کہاکہ تاجدار مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پرنور میں ایک ایسی سچائی اور کشش ہے جو خودبخود دلوں میں اترتی چلی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ حضور اقدس کے قلب عطر میں قرآن نازل ہوا گو دوسری کتابیں یعنی تورات، زبور اور انجیل موجود تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب یعنی قرآن پاک اپنے آخری نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اپنے ذمہ لی۔
انہوں نے کہا کہ اسلئے امت مسلمہ کو چاہئے کہ رسول اکرمﷺ کی تعلیمات آپ کی حیات مبارکہ اور کردار کو دوسروں کے سامنے موثر اور معیاری انداز میں پیش کریں اور خاص طور پر یورپی معاشروں میں اسلام کے پیغام کو آگے بڑھائیں اور غیرمسلموں کو رسول اکرمؐ کی زندگی حیات مبارکہ اور تعلیمات سے آگاہ کرانے کیلئے بھی ایک بہتر ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کائنات کی فلاح و کامرانی کا جو دستور دیا اس پر خود بھی عمل کرکے دکھایا اس لئے آج انسان نبی پاک ﷺ کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوکر دین و دنیا میں کامیابیوں و کامرانیوں سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا حضور اکرم ﷺکی ذات اقدس تمام انبیاء کرام میںوہ واحد ہستی ہیں جن کی سیرت پاک احکامات و کردار مبارک عادات حسنہ تاریخ میں جوں کی توں محفوظ ہیں اور آپ کی زندگی کا ایک ایک گوشہ اور ایک ایک لمحہ اور ہر پہلو انسانیت کیلئے رہنمائی اور ہدایت کا ذریعہ اور سرچشمہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ برطانیہ میں ہمارا ایک اہم مسئلہ اپنے بچوں اور نوجوانوں کو دین حق سے وابستہ اور پیوستہ رکھنا ہے اس سلسلے میںوالدین علمائے کرام مساجد اور دینی اداروں پر بڑی گہری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔بچوں کو تسلیم دینا اشد ضروری ہے کیونکہ رسول اکرمؐ کی محبت ایمان کا ستون ہے۔
صاحبزادہ سید نعمان حیدرشاہ نے آستانہ عالیہ بگھار شریف کے مشائخ اور پروفیسر ڈاکٹر ساجد الرحمٰن کی علمی کاوشوں پر فخر کرتے ہوئے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مسلم امہ کو اس وقت بہت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ برطانیہ میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کو دیناسلام کی عالمگیر اور تاریخی تعلیمات سے آگاہ رکھنے اور حضور اکرمؐ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوکر ہی ہم ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
مفتی عبدالرحیم نقشبندی نے کہا کہ اسلام نے انسانوں کو حقوق اور انصاف کیلئے بہترین اصول عطا کئے ہیں جن پرعمل کرکے ہم بطور امت ایک عظیم طاقت بن سکتےہیں۔ علامہ ظفر محمود فراشوی نے کہاکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہمارے لئے ایک مکمل نمونہ ہے جس کو اپنا کر ہم معاشرے میں بہتر مقام حاصل کرسکتے ہیں۔
علامہ عمر حیات قادری نے برطانیہ میں پروان چڑھنے والے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ نہ صرف اپنی ذمہ داری اورزمانہ طالب علمی میں کئے ہوئے عہد کوہر وقت یادرکھیں بلکہ اس کی روشنی میں ہی اس بات کی باقاعدہ منصوبہ بندی کریں کہ مغرب میں رہتے ہوئے وہ کس طرح اسلام کی خدمت کر سکتے ہیں اس چیز کو سوچے بغیر کسی بھی طرح دور جدید کے چیلنجز سے نہیں نمٹا جا سکتا۔
تقریب سے مولانا صدیق کوثر اور مولانا مجیب قریشی نے بھی خطاب کیا اور بارگاہ رسالت میں نذرانہ عقیدت قاری ارشد محمود بگھاروی اور محمد اسماعیل نے پیش کیا جبکہ نظامت کے فرائض مفتی امجد علی نے ادا کئے اور تقریب کے آخر میں اسلام کی سربلندی اور امت مسلمہ کی کامیابیوں اورکامرانیوں کیلئے خصوصی دعا پروفیسر ڈاکٹر پیر ساجد الرحمٰن نے کی۔


