جہلم میں جعلی مشروبات سے شہری بیمار ہونے لگے، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی خاموشی پر سوالیہ نشان

جہلم شہر اور گردونواح میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی عدم دلچسپی نے شہریوں کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
شہر کے مختلف چوکوں، چوراہوں اور گلیوں میں درجنوں ریڑھیاں "املی آلو بخارہ” کے نام پر کیمیکل سے تیار شدہ جعلی شربت فروخت کر رہی ہیں، جس کے استعمال سے متعدد شہری معدے اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ ریڑھیاں دن دہاڑے کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں، جہاں چھوٹے گلاس کی قیمت 20 روپے جبکہ بڑے گلاس کی قیمت 30 روپے وصول کی جا رہی ہے۔ ریڑھی مالکان نے دلفریب پینافلیکس بینرز آویزاں کر رکھے ہیں تاکہ عوام کو لبھایا جا سکے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان شربتوں میں استعمال ہونے والے کیمیکل صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ معاملہ ایک بڑے صحت کے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ جعلی شربت فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے اور شہریوں کی صحت کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
شہریوں کی بڑی تعداد شربت پینے کے بعد معدے کی خرابی، قے، دست اور گردوں کی تکالیف کے باعث اسپتالوں کا رخ کر رہی ہے۔ اس صورتحال پر شہریوں، عوامی اور سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔



