ذکر اللہ مومن کے لیے غذا اور دوا ہے، دنیا کی تپش میں باطنی اصلاح ناگزیر ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ بعثت رحمت عالم ﷺ سے لے کر آج تک صدیاں گزر چکی ہیں یہ بہت بڑا فاصلہ ہے لیکن آج بھی ہمارے پاس تعلیمات نبوت ﷺ اور برکات نبوت موجود ہیں اور یہ حق قیام قیامت تک رہے گا۔ یہ سلاسل تصوف انہی برکات کو سینہ اطہر رسول ﷺ سے آج بھی متلاشی سینوں تک پہنچا رہے ہیں۔ان اصول و ضوابط کو اپنانا ہوگا جو آپ ﷺ نے فرمائے ہیں۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ذکر اللہ بندہ مومن کے لیے غذا بھی ہے اور دوا بھی، یہ اللہ کا نام وہ قوتِ عمل عطا کرے گا جو شیطان کے سارے فریب کو ریزہ ریزہ کر کے رکھ دے گا۔یہ اجتماعات کا انعقاد بھی اس لیے ہے کہ یہاں شب و روز ایک ایک بندے پر محنت کی جا رہی ہے۔ باطنی اصلاح کی ضرورت فی زمانہ معاشرے کی تپش بڑھنے کے ساتھ بہت ضروری ہے کہ ہمارے حالات اور عمل سیدھی سمت میں رہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم جس کی آج ہم تلاوت کرتے ہیں یہ کلام بھی لب ہائے مبارک محمد الرسول اللہ ﷺ سے ہمیں نصیب ہوا۔آپ ﷺ اکیلے اس وحی کے گواہ ہیں کہ یہ کلام باری ہے۔یہ مخلوق پر اللہ کریم کی بہت بڑی عطا ہے۔یہ ہمارے لیے شرف کی بات ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اطاعت نصیب ہو۔یہ ہمارے لیے بندگی کی معراج ہے۔ایمانیات ہوں،عبادات ہوں یا معاملات جو بھی اصول مقرر فرما دئیے گئے ہیں سارا حق ان کے اندر ہے ان کے باہر حق نہیں۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ کیفیات کی جب بات آئے گی تو ایک ایک سبق سے لے کر بالائے منازل تک مشائخ سلسلہ عالیہ نے بہت محنت فرمائی جیسے ایک بچے کو انگلی پکڑ کر چلایا جاتا ہے ایسے محنت کرائی گئی۔اللہ ہمیں توفیق دے کہ یہ جو فانی جہان کی مصروفیت نے ہمیں لپیٹ رکھا ہے ہم کہتے ہیں ہم فارغ نہیں،ہماری طبیعت ٹھیک نہیں یا ہم مصروف ہیں اس لیے نماز نہیں پڑھ سکے اس لیے ذکر نہیں کر سکے جہاں دنیا کا ذاتی مفاد ہو وہاں نہ طبیعت روکتی ہے نہ مصروفیت روکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنا تعلق اللہ کریم سے مضبوط بنائیں۔بنیاد خلوص ہے۔جہاں اللہ کے نام پر اللہ کے حبیب ﷺ کے نام پر اجتماع نصیب ہو اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے۔اللہ کریم ہمیں امتی کے رشتے میں اخلاص عطا فرمائے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے مزید کہا کہ دنیا کے حالات دنیا کی تپش بڑھ رہی ہے اور مزید بڑھتی جائے گی یہ دنیا کے حالات ہیں کبھی ذلزلے کبھی جنگیں یہ اتار چڑھاؤ اس دنیا کا حصہ ہیں حالات جیسے بھی ہوں نور ایمان کی ضرورت ہر وقت ہوتی ہے۔ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے معاملات بحیثیت ذات سے لے کر قومی اور مسلم امہ کے طور پر ہمارا جو عمل ہے وہ مثبت ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی اجتماع جاری ہے جس میں سالکین کو ایک باقاعدہ منظم تربیتی پروگرام سے گزارا جاتا ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان روزانہ دن گیارہ بجے صحبت شیخ میں بیان کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button