بہترین تبلیغ اپنی اصلاح اور عملی کردار سے ہوتی ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ بہترین تبلیغ یہ ہے کہ انسان خود عملی طور پر وہ کردار اختیار کرے جس کی دوسروں کو تلقین کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص منبر پر بیٹھ کر ایک بات بیان کرے جبکہ اس کا اپنا عمل اس کے برعکس ہو تو ایسی تبلیغ کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی نیت، رخ اور کردار کو صاف، کھرا اور خالص رکھنا ہی اصلاح کا بنیادی راستہ ہے۔

جمعتہ المبارک کے روز خطاب کرتے ہوئے امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ آج بھی جب مجاہدین اپنی جان اللہ کے سپرد کرتے ہیں تو قرآن کریم میں حکم ہے کہ انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک مجاہد کا اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقام ہے تو اللہ کے نبی اور رسول کا مقام و مرتبہ کس قدر بلند ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موت کے بھی مختلف درجات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دین سے دوری بدبختی کا سبب بنتی ہے، اس لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ دینی احکامات کو سمجھ کر ان پر عمل کیا جائے، مگر آج بعض لوگ دینی احکامات پر اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر نفاق پیدا ہو چکا ہے اور خرابی ہماری اپنی ذات میں آ گئی ہے۔ اعتراض کرنے والے بعض اوقات دین کی بجائے اپنی عقل کو معیار بناتے اور اپنی رائے کو مقدم رکھتے ہیں۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ مشروط اقرار کی صورت میں انسان اپنی رائے کو ہی مقدم جانتا ہے اور اس کی تمام توجہ اسی پر مرکوز رہتی ہے۔ اعتراض برائے اعتراض اور کسی بات کو سمجھنے کے لیے سوال کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ضد اور انا میں پھنسے رہتے ہیں، حالانکہ جو شخص حق کے خلاف جاتا ہے وہ دراصل اپنے ہی نقصان کا سبب بنتا ہے، جبکہ حق پر عمل کرنے والے کی سلامتی اسی میں ہے کہ وہ حق پر قائم رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انبیائے کرام علیہم السلام جب کوئی بات فرماتے ہیں تو اس میں امت کی رہنمائی موجود ہوتی ہے۔ یہ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جن کی تبلیغ، تعلیم اور تربیت بے مثال ہے اور جنہیں اللہ کریم نے چن لیا۔ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی امت کے لیے شفقت اور خیرخواہی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ لوگوں کی ہدایت اور فلاح کے لیے اس قدر فکر مند رہتے تھے کہ اللہ کریم نے اپنے حبیب ﷺ کی اسی کیفیت کا ذکر فرمایا۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ لوگ کیا کہتے ہیں، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ کریم کا حکم کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کا فرمان کیا ہے۔ اپنی نیت اور اپنا رخ ہمیشہ صاف، کھرا اور خالص رکھنا چاہیے۔ بہترین تبلیغ اپنی اصلاح ہے، جب انسان اپنے اعمال اور کردار کو درست کرے گا تو اس کا اثر دوسروں پر بھی ضرور پڑے گا۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ کریم ہمیں دین کو صحیح شعور کے ساتھ سمجھنے، اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے اور اپنے کردار و اعمال کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔ خطاب کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی کی گئی۔

Exit mobile version