بجٹ 2025-26؛ سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے تنخواہوں میں اضافے کو ناکافی قرار دے دیا

جہلم: وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2025-26 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کے اعلان پر پنجاب بھر کے مختلف محکموں کے ملازمین نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
جہلم میں میونسپل کمیٹی، محکمہ زراعت، محکمہ صحت، پنجاب ہائی وے اور محکمہ بلڈنگ سمیت متعدد سرکاری اداروں کے نمائندوں نے بجٹ پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ موجودہ مہنگائی کے پیش نظر "اونٹ کے منہ میں زیرہ” کے مترادف ہے۔
سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کی لہر میں بجلی، گیس، پانی اور دیگر یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی کے بعد تنخواہ مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے، ایسے میں بچوں کی تعلیم، راشن، ٹرانسپورٹ، ادویات اور دیگر ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہا۔
محکمہ ہائی وے کے ملازمین نے بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے ملازمین ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں، ان کے اندر چڑچڑا پن بڑھ رہا ہے، اور کام کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اعلیٰ افسران زمینی حقائق کی بجائے "سب اچھا ہے” کی رپورٹیں آگے بھیجتے ہیں۔
ریٹائرڈ ملازمین کا کہنا ہے کہ پچھلے سال حکومت نے گریجویٹی میں 50 فیصد تک کٹ لگا کر ایک بڑا ظلم کیا ہے، اب صرف 7 فیصد پنشن میں اضافہ ان کے ساتھ مزید ناانصافی ہے۔ ایک پنشنر نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے اپنی زندگیاں سرکاری اداروں کو دے دیں، اور اب بڑھاپے میں ہمارے لیے اتنی پنشن بھی نہیں کہ آرام سے گزارا کر سکیں”۔
ملازمین اور پنشنرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر نظرثانی کی جائے اور مہنگائی کے تناسب سے حقیقی اضافہ کیا جائے۔ پنشنرز کو یوٹیلٹی بلز، ادویات، ٹرانسپورٹ اور ریلوے کرایوں میں سبسڈی یا رعایت فراہم کی جائے۔ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، نہ کہ صرف اعداد و شمار میں اضافہ۔
سرکاری ملازمین و پنشنرز نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ زمینی حقائق کا جائزہ لے کر فوری طور پر عوامی ریلیف پر مبنی اقدامات کیے جائیں، تاکہ سفید پوش طبقہ اپنی زندگی باعزت طریقے سے گزار سکے۔



