جہلم میں ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی اراضی پر مبینہ قبضوں کا انکشاف، سینکڑوں کنال تاحال واگزار نہ ہوسکی

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی اراضی پر مبینہ قبضوں کا سلسلہ تاحال برقرار ہے۔

راولپنڈی ریلوے ڈویژن کے مختلف مقامات پر واقع سینکڑوں کنال قیمتی اراضی کے ناجائز قابضین کے استعمال میں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ افسران کے تبادلوں، ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کی تبدیلی اور وفاقی وزیر ریلوے کی جانب سے کارروائیوں کی ہدایات کے باوجود بیشتر اراضی تاحال واگزار نہیں کروائی جا سکی۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں ریلوے اراضی کے حوالے سے قبضوں اور حد بندی کے مسائل آج کے جدید دور میں بھی موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق حنا پور اور پنڈدادنخان سے خوشاب جبکہ ہرن پور سے غریب وال تک ریلوے ٹریک بند ہونے اور ریلوے اراضی کے موثر استعمال نہ ہونے کے باعث بڑے رقبے پر بااثر افراد کی جانب سے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں، جبکہ بعض اراضی کاشت کے لیے بھی استعمال ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق ضلع کے مختلف مقامات پر ریلوے کی لیز اراضی کے ریکارڈ اور موقع پر موجود زمین کی مکمل پیمائش اور حد بندی نہ ہونے کے باعث اصل صورتحال واضح نہیں ہو رہی۔ بعض مقامات پر یہ تعین کرنا بھی مشکل ہے کہ کون سی اراضی ریلوے کی ملکیت ہے اور کس رقبے پر مبینہ طور پر غیر متعلقہ افراد قابض ہیں۔

ریلوے انتظامیہ کی جانب سے لیز اور لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم شہری و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کافی نہیں بلکہ موقع پر موجود اراضی کی ڈیجیٹل پیمائش اور مکمل حد بندی بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق جدید پیمائش کے ذریعے ریلوے کی ملکیتی اراضی اور مبینہ قابضین کی درست نشاندہی کی جا سکتی ہے، جس کے بعد قانونی کارروائی کے ذریعے قیمتی اراضی واگزار کرانے کا عمل مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

شہری و سماجی حلقوں نے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ڈی ایس ریلوے راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع جہلم میں ریلوے کی تمام متنازعہ اور زیرِ قبضہ اراضی کی مکمل پیمائش، حد بندی اور ریکارڈ کی تصدیق کرائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جہاں ناجائز قبضے ثابت ہوں وہاں قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ریلوے کی قیمتی اراضی واگزار کرائی جائے اور مستقبل میں تجاوزات و قبضوں کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ریلوے کی قیمتی اراضی کو قبضوں سے محفوظ بنا کر اسے محکمہ ریلوے کے مفاد میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف سرکاری اثاثوں کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ محکمہ ریلوے کی کارکردگی اور مالی صورتحال میں بھی بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

↑
Exit mobile version