8 اکتوبر 2005ء کا زلزلہ ہماری تاریخ کا ناقابل فراموش سانحہ ہے، سید خلیل حسین کاظمی

جہلم کی معروف سماجی و مذہبی شخصیت سید خلیل حسین کاظمی نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر 2005ء ہماری تاریخ کا وہ دردناک باب ہے جسے وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں سکتی۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے کا وہ لمحہ جب آزاد کشمیر، بالخصوص مظفرآباد کی زمین لرز اٹھی، صرف عمارتیں ہی نہیں بلکہ لاکھوں ہنستے کھیلتے گھرانے، ان کے خواب اور ارمان بھی ملبے تلے دب گئے۔ یہ صرف ایک زلزلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا کڑا امتحان تھا جس نے ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو سوگوار کر دیا۔

اپنے بیان میں سید خلیل حسین کاظمی نے کہا کہ ہم 8 اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلے میں شہید ہونے والے تمام افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان معصوم بچوں، ماؤں، بزرگوں اور جوانوں کی یادیں آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہیں، جنہیں اس ناگہانی آفت نے ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس تباہ کن قدرتی آفت نے قوم کو بے شمار زخم دیے، تاہم اسی مشکل گھڑی میں قوم کے اتحاد، ایثار، جذبۂ خدمت اور باہمی ہمدردی کا بھی عملی مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ دکھ اور کرب کی اس گھڑی میں جس طرح پورا پاکستان اور بین الاقوامی برادری آزاد کشمیر کے متاثرہ بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہوئی، اس سے ثابت ہوا کہ انسانیت، ہمدردی اور ایک دوسرے کا سہارا بننا ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔

سید خلیل حسین کاظمی نے کہا کہ شہداء کو یاد کرنا صرف چند لمحوں کی خاموشی یا تعزیتی کلمات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں ان کے چھوڑے ہوئے نامکمل خوابوں کو پورا کرنے اور متاثرہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اپنے شہداء کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے اور ان کے نامکمل خوابوں کی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔

↑
Exit mobile version