دینہ میں لیڈی ٹریفک پولیس اہلکاروں کے رویے اور چالانوں پر شہریوں کا احتجاج

دینہ میں تعینات لیڈی ٹریفک پولیس اہلکاروں کے رویے اور چالاننگ کے طریقہ کار کے خلاف شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے بجائے بعض لیڈی ٹریفک پولیس اہلکاروں کی توجہ زیادہ تر چالان کرنے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق مکمل کاغذات، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود موٹر سائیکل سواروں کے دو دو ہزار روپے تک کے چالان کیے جا رہے ہیں، جس سے عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
متعدد شہریوں نے شکایت کی ہے کہ لیڈی ٹریفک اہلکار اکثر چوک میں قائم چھتری کے نیچے موجود رہتی ہیں جبکہ شہر کے مصروف مقامات، خصوصاً منگلا روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر بڑھتے ہوئے ٹریفک رش کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کم نظر آتے ہیں۔
شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ بعض مواقع پر موٹر سائیکل سواروں سے شناختی کارڈ طلب کر کے مختلف نوعیت کی پوچھ گچھ کی جاتی ہے، جس سے عوام میں تشویش پیدا ہو رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی نیا قانون یا ضابطہ نافذ کیا گیا ہے تو اس کے بارے میں عوام کو باقاعدہ آگاہ کیا جانا چاہیے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کا بنیادی فریضہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا، شہریوں کی رہنمائی کرنا اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔ صرف چالانوں پر توجہ دینے سے عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی فضا متاثر ہو سکتی ہے۔
شہریوں نے آر پی او راولپنڈی، ڈی پی او جہلم اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دینہ میں لیڈی ٹریفک پولیس کی کارکردگی اور عوامی شکایات کا جائزہ لیا جائے، حقائق کی روشنی میں تحقیقات کی جائیں اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے ٹریفک نظام مزید بہتر ہو اور شہریوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ضروری ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ عوامی سہولت، مناسب رہنمائی اور خوش اخلاقی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ قانون کی پاسداری اور عوامی اعتماد دونوں برقرار رہ سکیں۔



