12
سوہاوہ: ڈومیلی کے نواحی علاقہ دانی دہرہ میں پانی کی نکاسی کا نظام درہم برہم ہونے پر مقامی مکینوں اور دکانداروں نے شدید احتجاج کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقے میں سڑک کے ساتھ سیوریج کے لیے بنایا گیا نالہ ایک جانب سے بند ہو چکا ہے، جس کے باعث گھریلو اور بارشی پانی کی نکاسی مکمل طور پر رک گئی ہے۔
نالہ بند ہونے کی وجہ سے گندہ پانی جمع ہو کر باہر آ جاتا ہے، جس سے نہ صرف تعفن پھیل رہا ہے بلکہ ڈینگی وائرس اور دیگر وبائی امراض کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مظاہرین نے بتایا کہ بارش کے دنوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو جاتا ہے، جس سے قیمتی سامان کو نقصان پہنچتا ہے اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
احتجاج میں شریک شہریوں اور دکانداروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے ایم این اے چوہدری فرخ الطاف، ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن اور اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ غزالہ اصغر سے اپیل کی کہ بند نالے کو فوری طور پر کھلوایا جائے تاکہ پانی کی نکاسی بحال ہو سکے اور عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔
مظاہرین نے ستھرا پنجاب کی ٹیم کا شکریہ بھی ادا کیا، جو وقتاً فوقتاً نالے سے گندہ پانی اور کوڑا کرکٹ نکالتی ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا تھا کہ اگر ستھرا پنجاب کی ٹیم نہ ہوتی تو گندا پانی مین سڑک تک آ جاتا اور صورتحال مزید سنگین ہو جاتی۔
علاقہ مکینوں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ جلد حل نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ مسئلہ نہ صرف ماحولیاتی بلکہ صحت عامہ کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکا ہے۔
