جہلم میں عیدالاضحی کی آمد کے باوجود برلب جی ٹی روڈ قائم کی گئی عارضی مویشی منڈی ویرانی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ خریداروں کی عدم دلچسپی کے باعث دوسرے اضلاع سے جانور لے کر آنے والے بیوپاری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
انتظامیہ نے شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے پیش نظر مویشی منڈی کو شہری حدود سے باہر جی ٹی روڈ پر واقع فوجی مل گراؤنڈ میں منتقل کیا ہے، جہاں پنجاب کے مختلف اضلاع سے جانور لائے گئے ہیں۔ تاہم منڈی میں رش نہ ہونے کے باعث بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ خریدار جانوروں کی قیمتیں معلوم کر کے بغیر خریداری کے واپس چلے جاتے ہیں۔
خریداروں کا کہنا ہے کہ وہ سنتِ ابراہیمی ادا کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، لیکن اس سال جانوروں کی قیمتیں گزشتہ برس کی نسبت دو گنا زیادہ ہیں۔ خاص طور پر بڑے جانوروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ بیوپاریوں کے مطابق ایک 2 من وزنی بیل کی قیمت 2 لاکھ 25 ہزار روپے مقرر ہے، جو گائے کے گوشت کی فی کلو قیمت کو تقریباً 2200 سے 2300 روپے تک لے آتی ہے۔
خریداروں کا کہنا ہے کہ یہ نرخ نہ صرف عام شہری کی قوتِ خرید سے باہر ہیں بلکہ قربانی جیسے عظیم فریضے کو مشکل بنانے کے مترادف ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بیوپاری اس سنتِ ابراہیمی میں شامل ہونے کی نیت سے منافع کم رکھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ قربانی کی سعادت حاصل کر سکیں اور بیوپاری بھی ثواب میں شریک ہو سکیں۔
