جہلم شہر اور مضافاتی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ معمول بن چکی ہے جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ضلعی افسران اور اہلکاروں کی عدم دلچسپی کے باعث صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اب شہر اور ضلع بھر کی کسی بھی دکان سے خالص اشیاء کا ملنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ دودھ، دہی، سرخ مرچ، مصالحہ جات، بسکٹ، گھی، چائے کی پتی اور مشروبات سمیت دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں کھلے عام ملاوٹ کی جا رہی ہے۔ ملاوٹ مافیا بے خوف ہو کر عوام کی صحت سے کھیل رہا ہے جبکہ متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
شہریوں اعجاز چوہدری، شاہین ڈاد، محمد شریف، ملک ندیم عباس، وسیم عباس اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی ضلع جہلم کے ذمہ داران بااثر ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائیاں کرنے سے گریز کر رہے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کی صحت داؤ پر لگ گئی ہے۔
شہریوں نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری نوٹس لینے اور ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو خالص اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
