جہلم: مہنگائی ختم کرنے کی دعویدار حکومت کی جانب سے سوئی گیس کے بلوں میں غیرمعمولی اضافہ نے صارفین کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے گیس کے بلوں میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے، جس سے غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ محکمہ سوئی نادرن گیس نے حالیہ ماہ گیس کے بلوں میں غیرمعمولی اضافہ کرکے نئے بلز جاری کیے ہیں۔
صارفین کے مطابق میٹر ریڈنگ کی دوبارہ جانچ کے بجائے انہیں اقساط میں بل ادا کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ بلوں کی درستگی کے لیے دفتر جانے والے صارفین خوار ہو رہے ہیں اور گھنٹوں انتظار کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔
انہوں نے کہا کہ ماہانہ اوسطاً 300 روپے ادا کرنے والے صارفین کو اب 8 ہزار سے 17 ہزار روپے تک کے بل موصول ہو رہے ہیں، جبکہ اوسطاً 1000 روپے بل ادا کرنے والوں کو 30 ہزار سے 50 ہزار روپے تک کے بھاری بل جاری کیے گئے ہیں۔ یہ صورتحال عوام کے لیے شدید مالی مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
محکمہ کے ذرائع کے مطابق گیس کے استعمال کے مطابق مختلف ٹیرف نافذ کیے گئے ہیں۔ 0 اعشاریہ 60 ایچ ایم تھری استعمال کرنے والوں سے 300 روپے جبکہ 4 اعشاریہ 0 سی ایم ایچ تھری استعمال کرنے والوں سے 4000 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ یہ اضافی ٹیرف غریب اور متوسط طبقے کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہو رہے ہیں، اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
