ضلع جہلم میں کبوتر بازی کا بڑھتا رجحان شہریوں کے لیے وبال جان بن گیا

جہلم: ضلع جہلم میں کبوتر بازی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے شہریوں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ شہر اور گردونواح کے مختلف رہائشی علاقوں میں شوقین افراد نے گھروں کی چھتوں پر لوہے کے پنجرے اور جنگلے نصب کر رکھے ہیں، جس پر اہلِ علاقہ کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق چھتوں پر کبوتر بازی کے دوران نوجوانوں کا شور و غل معمول بن چکا ہے، جس کے باعث نہ صرف ہمسایوں کے سکون میں خلل پڑتا ہے بلکہ اردگرد اور سامنے واقع گھروں میں خواتین کو رازداری کے مسائل اور ذہنی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر کبوتر بازی کے دوران ہونے والا شور اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ گھروں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوتے ہیں۔ شہریوں کے مطابق جب کسی کو شور شرابے سے منع کیا جاتا ہے تو بعض اوقات معمولی تنازعات تلخ کلامی اور لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتے ہیں، جس سے محلے کا ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، پنجاب ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا فورس) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی لوہے کے جنگلوں، پنجروں اور دیگر ایسے انتظامات کا جائزہ لیا جائے جو شہریوں کے سکون اور رازداری میں خلل کا باعث بن رہے ہیں۔
اہلِ علاقہ نے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق، خصوصاً سکون، رازداری اور امن و امان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔



