گندم کی قیمت میں کمی کے باوجود جہلم میں روٹی اور نان کی مہنگے داموں فروخت

جہلم: ضلع جہلم کی گندم مارکیٹ میں فی من قیمت 2200 سے 2300 روپے تک پہنچنے کے باوجود روٹی اور نان سرکاری نرخوں سے زائد قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں، جس پر شہریوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے گندم کی قیمت میں نمایاں کمی کی ہے تاکہ عام آدمی کو دو وقت کی روٹی بآسانی میسر آ سکے۔ تاہم شہر اور مضافاتی علاقوں میں ہوٹل اور تندور مالکان اب بھی روٹی 15 روپے اور نان 20 سے 25 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جب گندم اور آٹے کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آ چکی ہے تو ہوٹل مالکان کا من مانی نرخوں پر فروخت جاری رکھنا نہ صرف حکومتی ریلیف پالیسیوں کے خلاف ہے بلکہ غریب عوام کے ساتھ زیادتی بھی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ روٹی 10 روپے اور نان 15 روپے میں فروخت ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روٹی کا سرکاری نرخ 13 روپے اور نان کا 20 روپے مقرر کیا گیا ہے، مگر شہر بھر میں کہیں بھی اس پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے غیر مؤثر نگرانی شہریوں کی پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔

شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، خاص طور پر ڈپٹی کمشنر جہلم، فوری نوٹس لیں اور گراں فروشی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری ریلیف کا حقیقی فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔

Exit mobile version