کینیڈا کا اسٹوڈنٹ ویزوں بارے بڑا اعلان

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اہم اعلان کر دیا ہے۔ ان کے نئے اعلان کے بعد کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے طلبہ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ کو دیے جانے والے اجازت نامے اگلے سال تک مزید کم کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر ایک پوسٹ بھی کی ہے۔ جسٹن ٹروڈو نے اپنی پوسٹ میں لکھا، “ہم اس سال سے بین الاقوامی طلبہ کو 35 فیصد کم پرمٹ دے رہے ہیں۔ اگلے سال اس میں مزید 10 فیصد کمی کی جائے گی۔
کینیڈا کے وزیر اعظم نے یہ بھی لکھا کہ ہجرت سے ہماری معیشت کو فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن جب کچھ برے لوگ سسٹم کا غلط استعمال کرتے ہیں اور طلبہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو ہمیں ان کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔
خیال رہے کہ ہر سال بڑی تعداد میں ہندوستانی طلبہ تعلیم حاصل کرنے کینیڈا جاتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کینیڈا کا یہ فیصلہ ان طلبہ کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
ہر سال لاکھوں ہندوستانی طلبہ اسٹڈی پرمٹ پر کینیڈا جا رہے ہیں۔ حکومت کینیڈا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 ء کے مقابلے میں 2023 ء میں ایکٹیو اسٹوڈنٹ ویزوں کی تعداد تقریباً 29 فیصد بڑھ کر 10 لاکھ 40 ہزار ہو گئی ہے۔
ان میں سے تقریباً چار لاکھ 87 ہزار ہندوستانی طلبہ تھے۔ یہ 2022 ء کے مقابلے میں 33 اعشاریہ 8 فیصد زیادہ ہے۔
بین الاقوامی طلبہ کو اوسط کینیڈا کے طالب علم سے تین گنا زیادہ فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ کینیڈا کی حکومت کی 2022ء کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی طلبہ نے یہاں کی معیشت میں 22 بلین کینیڈین ڈالر کا حصہ ڈالا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 2 اعشاریہ 2 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔



