جہلم میں جی ٹی روڈ غیر قانونی بس اسٹاپس اور رکشہ اڈوں میں تبدیل، حادثات میں تشویشناک اضافہ

جہلم: موٹروے پولیس کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث جہلم میں جادہ جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف غیر قانونی بس اسٹاپس اور رکشہ اڈے قائم ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹریفک حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

شہریوں کے مطابق جی ٹی روڈ پر بے ہنگم طریقے سے گاڑیوں کے کھڑے ہونے، سواریاں اتارنے اور چڑھانے کے باعث اب تک متعدد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہو کر عمر بھر کی معذوری کا شکار بن چکے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف بسوں، ویگنوں اور رکشوں نے از خود غیر قانونی اڈے قائم کر رکھے ہیں، جن کے خلاف کارروائی نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

شہریوں کا الزام ہے کہ یہ غیر قانونی اڈے دیدہ دلیری سے دن بھر فعال رہتے ہیں، جہاں تیز رفتار ٹریفک کے درمیان اچانک گاڑیوں کا رکنا، یوٹرن لینا اور سڑک کنارے کھڑے ہونا مہلک حادثات کا سبب بن رہا ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق موٹروے پولیس کے افسران و اہلکار اکثر گاڑیوں میں سائرن بجاتے ہوئے ان مقامات سے گزر جاتے ہیں، تاہم مستقل بنیادوں پر غیر قانونی بس اسٹاپس اور رکشہ اڈوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اور ٹھوس کارروائی نظر نہیں آتی۔ البتہ وی آئی پی موومنٹ کے دوران ان اڈوں کو عارضی طور پر ہٹا دیا جاتا ہے، جو انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

شہریوں نے مزید الزام عائد کیا کہ بس اسٹاپ کے نام پر روزانہ لاکھوں روپے اڈا فیس کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ٹریفک نظم و ضبط قائم کرنے میں ناکامی واضح ہے۔ دوسری جانب موٹروے پولیس کی جانب سے بڑے غیر قانونی اڈوں کے بجائے رکشہ ڈرائیورز کے خلاف چالان کر کے ٹارگٹ پورا کرنے کا رویہ بھی شہریوں میں شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم جادہ جی ٹی روڈ پر قائم تمام غیر قانونی بس اسٹاپس اور رکشہ اڈوں کے خلاف فوری، مستقل اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو مزید ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور ٹریفک کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button