جہلم شہر اور گردونواح میں بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شہریوں، تاجروں اور دیہاڑی دار طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گرمی اور حبس کے موسم میں دن اور رات کے اوقات میں کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش نے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں۔
بجلی صارفین نے احتجاج کرتے ہوئے میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں کہا کہ طویل لوڈشیڈنگ کے باعث گھریلو امور متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں اور بزرگوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کے مطابق رات کے اوقات میں بجلی کی طویل بندش کے باعث نیند پوری نہ ہونے سے بچے اور بزرگ ذہنی و جسمانی اذیت سے دوچار ہو رہے ہیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ بجلی کی مسلسل بندش نے تاجر برادری اور دیہاڑی دار طبقے کے کاروبار کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ بجلی پر انحصار کرنے والے چھوٹے کاروبار اور دکانیں کئی گھنٹے متاثر رہتی ہیں، جس سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی آمدنی میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شہریوں نے مزید کہا کہ ایک طرف بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب انہیں بھاری بھرکم بجلی کے بل اضافی اور مختلف ٹیکسوں کے ساتھ باقاعدگی سے بھجوائے جا رہے ہیں۔ صارفین نے بلوں میں شامل اضافی ٹیکسوں اور دیگر مالی بوجھ پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
متاثرہ شہریوں نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم اور گردونواح میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے، بجلی کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے اور بجلی کے بلوں میں شامل اضافی ٹیکسوں اور مالی بوجھ کا جائزہ لے کر صارفین کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ گرمی کے موسم میں شہریوں، خصوصاً بچوں اور بزرگوں کو مشکلات سے نجات مل سکے۔
