جہلم کے علاقے چکری راجگان میں دورانِ ڈکیتی 24 سالہ جیولر فیضان کے قتل کا معاملہ اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈکیتی اور قتل کا مقدمہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے سپرد کر دیا گیا ہے، جبکہ کیس کے مرکزی ملزم کو بھی مزید تفتیش کے لیے سی سی ڈی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دو روز قبل چکری راجگان کے علاقے میں جیولر فیضان کو دورانِ ڈکیتی قتل کر دیا گیا تھا۔ واردات کے دوران ملزم مقتول سے زیورات کا بیگ چھین کر فرار ہو گیا تھا۔ واقعے کے بعد تھانہ چوٹالہ پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور شواہد کی بنیاد پر مقتول کے قریبی جاننے والے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے تفتیش کی۔
پولیس کے مطابق ملزم واردات کے وقت مقتول کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار تھا۔ ایک ویران سڑک پر اس نے فیضان کے سر میں گولی مار کر اسے قتل کیا اور زیورات کا بیگ لے کر فرار ہو گیا۔ تفتیش کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر قتل اور ڈکیتی کا اعتراف بھی کیا ہے۔
تھانہ چوٹالہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو فوراً گرفتار کر لیا تھا جبکہ اس کے قبضے سے دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کے زیورات بھی برآمد کیے گئے تھے۔ پولیس نے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے شواہد اکٹھے کیے اور ملزم سے تفتیش کا سلسلہ شروع کیا تھا۔
اب ذرائع کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات سی سی ڈی کے سپرد کر دی گئی ہیں اور مرکزی ملزم کو بھی اس ادارے کے حوالے کیا گیا ہے۔ کیس کی منتقلی کے بعد قتل اور ڈکیتی سے متعلق شواہد، ملزم کے بیان اور دیگر اہم پہلوؤں کی مزید چھان بین کی جائے گی۔
واقعے نے علاقے میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ مقتول کے قتل اور زیورات کی ڈکیتی کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
