14 اگست وطن سے تجدید عہد وفا کا دن ہے، مرکزی علماء کونسل جہلم

جہلم: مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے زیرِ اہتمام یومِ آزادی کی تقریبات کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس حکیم قاری شبیر احمد عثمانی کی زیرِ صدارت شمس پور جہلم میں منعقد ہوا، جس میں 14 اگست یومِ آزادی کی تقریبات کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ جمعہ کے خطبات میں میثاقِ مکہ کی اہمیت اور یومِ آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا، جبکہ 14 اگست کو ضلع بھر کے تمام مدارس اور دفاتر پر قومی پرچم لہرائے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل اور عوام میں وطن سے محبت اور قومی یکجہتی کے جذبات کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ 14 اگست وطنِ عزیز سے محبت اور تجدیدِ عہدِ وفا کا دن ہے۔ پاکستان ایک ایسی مملکت ہے جس کے قیام اور استحکام کے لیے علماء کرام اور مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ ہر سال یومِ آزادی ان قربانیوں کی یاد تازہ کرنے اور وطن سے محبت کے جذبے کو مزید تقویت دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
علماء کرام نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے قومی یکجہتی اور ملی جذبے کی اشد ضرورت ہے۔ ملک کے اسلامی تشخص کی حفاظت اور اسے برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج وطنِ عزیز کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جن کا مقابلہ سیاسی، مسلکی، لسانی اور گروہی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو کر ایک قوم بن کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ قومی مفادات کو ذاتی اور گروہی مفادات پر ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں قومی پرچم لہرانے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا اور اسے حب الوطنی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا۔ علماء کرام نے کہا کہ قومی پرچم ہماری آزادی، قومی شناخت اور اتحاد کی علامت ہے، اس لیے یومِ آزادی کے موقع پر ہر پاکستانی کو وطن سے محبت کے اظہار کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اس موقع پر علماء کرام نے میثاقِ مکہ (پاک، سعودی، ترک) معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کے محفوظ اور روشن مستقبل کی نوید قرار دیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس معاہدے کو امتِ مسلمہ کے اتحاد، استحکام، ترقی اور امن کا ذریعہ بنائے۔
اجلاس میں مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے عہدیداران، تحصیل صدور اور دیگر ذمہ داران نے شرکت کی، جن میں حکیم قاری شبیر احمد عثمانی، مولانا قاری محمد اشرف، قاری ابصار ایوب، مولانا زبیر الحسن، مولانا محمد مدثر، قاری عاصم عرفان، مولانا محمد عمران، قاری محمد ابراہیم منیر، حافظ مرتضیٰ تنویر، ملک محمد مبارک، ملک محمد مدثر، قاری محمد آصف، مولانا محمد عثمان، احتشام راٹھور اور شاکر علی بھٹی شامل تھے۔



