ٹیبلٹ سسٹم لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے دردِ سر بن گیا، تربیت کے بغیر نفاذ پر تشویش

پڑی درویزہ: صوبہ پنجاب بھر میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، جہاں تقریباً 90 فیصد ورکرز کو ٹیبلٹ چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دو ماہ قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبہ بھر کی لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بغیر کسی مناسب تربیت کے ٹیبلٹس فراہم کیے گئے اور انہیں LHW سے CHI (کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر) کا درجہ دے دیا گیا، تاہم ان کی تنخواہوں یا بنیادی پے اسکیل میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ہر لیڈی ہیلتھ ورکر کو 1500 افراد پر مشتمل آبادی کا مکمل صحت و معاشی ڈیٹا ٹیب لیٹ کے ذریعے جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو ان کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو رہی ہے۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 34 سال سے جاری لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام میں تعلیمی معیار کے مطابق بھرتیاں نہیں ہوئیں، جس کے باعث اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ان کے لیے "جوئے شیر لانے” کے مترادف ہے۔ بیشتر ورکرز اپنے گھروں یا محلوں میں موجود تعلیم یافتہ افراد سے مدد لینے پر مجبور ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس صورتحال کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغیر تربیت کے جدید نظام کا نفاذ ورکرز پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے صوبائی وزیر صحت پنجاب اور نیشنل پروگرام برائے خاندانی منصوبہ بندی و بنیادی صحت کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مناسب تربیت فراہم کی جائے اور رضاکارانہ مدد کرنے والوں کے لیے بھی کسی انعامی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔
مزید یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ 60 سال عمر مکمل کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خالی آسامیوں پر فوری طور پر تعلیم یافتہ خواتین کو بھرتی کیا جائے اور آبادی کا دائرہ 1500 کے بجائے 1000 افراد تک محدود کیا جائے تاکہ نظام کو مؤثر اور منصفانہ بنایا جا سکے۔



