تعلیمی اداروں میں ہفتہ کی چٹھی عوام دشمنی کے مترادف اقدام ہے، عوامی و سماجی حلقے

پڑی درویزہ/ سوہاوہ: پبلک سیکٹر تعلیمی اداروں میں ہفتہ کی چٹھی ، غریب عوام دشمنی کے مترادف اقدام ہے، عوامی سماجی حلقوں کی طرف سے ہفتہ کی بلاوجہ چٹھی ختم کرنے کا مطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ سے صوبہ پنجاب کی حکومت اور صوبائی وزارت تعلیم کی طرف سے پبلک سیکٹر ( سرکاری) تعلیمی اداروں میں ہفتہ کے روز چٹھی کا سلسلہ شروع ہے جس کا کوئی خاص قانونی جواز سمجھ سے بالا تر ہے۔
دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اس طرح کی ہفتہ وار چٹھی کا کوئی تصور نہیں ہے بلکہ پورا ہفتہ حتیٰ کے فالتو اوقات میں تدریسی سرگرمیوں اور موجودہ کلاسوں کی بجائے ایڈوانس کلاسوں کی تعلیم کے لیے کھلی آزادی ہے۔
اس سلسلہ میں عوامی سماجی حلقوں کی طرف سے بڑے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ عوام خصوصاً محنت کش ، یومیہ مزدور، کم آمدنی یا باقاعدہ آمدنی سے محروم طبقات کے بچے جو پبلک سیکٹر میں زیر تعلیم ہوتے ہیں کو بلاجواز ہفتہ کے پورے دن تعلیمی تدریسی سرگرمیوں سے محروم رکھا جاناکسی طور درست اقدام نہیں ہے۔
عوامی سماجی حلقوں کے مطابق مذکورہ قدام کے پیچھے حکومت کی طرف سے پبلک سیکٹر تعلیمی اداروں کے خلاف ایک سازش کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے ۔
اس صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے علاقہ بھر کے عوامی سماجی محنت کش حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزارت تعلیم سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ ہر ہفتہ کے روز پبلک سیکٹر تعلیمی اداروں میں بلاجواز چٹھی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ صوبہ بھر کے تمام سرکاری ملازمین کے لئے سختی سے احکامات جاری کیے جائیں کہ ان سب کے بچے بلا امتیاز سرکاری تعلیمی اداروں میں حصول تعلیم کے لیے داخل ہوں جن سرکاری ملازمین کے بچے خلاف کریں ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف قانونی تادیبی کاروائی کی جائے۔



